Al-Risala · December 2011 · page 4

خدا اور بندہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۴

خدا اور بندہ

علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ ان کے پاس سواری کے لیے ایک جانور لایا گیا۔ جب انھوں نے اپنا پاؤں اس کے رکاب میں رکھا تو کہا: بسم اللہ۔ پھر جب وہ اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو کہا: الحمد للہ، سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون۔ اس کے بعد انھوں نے تین بار اللہ کی حمد کی اور تین بار اللہ کی تکبیر کی۔ پھر کہا: سبحانك لا إله إلا أنت قد ظلمت نفسي فاغفر لي۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی ہنس پڑے۔ میں نے پوچھا کہ اے امیر المومنین، آپ کس بات پر ہنسے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے سوار ہوتے ہوئے وہی کہا جو میں نے کہا۔ پھر آپ ہنس پڑے۔ میں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، آپ کیوں ہنسے۔ آپ نے فرمایا: يعجب الرب تبارك وتعالى من عبده إذا قال رب اغفر لي۔ ويقول علم عبدي أنه لا يغفر الذنوب غيري۔ (تفسير ابن كثير، 4/124) بندہ جب کہتا ہے کہ اے میرے رب، مجھے بخش دے تو اللہ تعالی اس پر تعجب کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے اس کو جانا کہ میرے سوا کوئی بھی گناہوں کو بخشنے والا نہیں۔

رب اغفر لي (میرے رب، مجھے بخش دے) کہنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک عظیم ترین دریافت کے نتیجے میں ظاہر ہونے والا کلمہ ہے، جو ایک مومن کی زبان سے نکل پڑتا ہے۔ یہ کلمہ کسی کی زبان سے اُس وقت نکلتا ہے جب کہ وہ غیب کے پردے کو پھاڑ کر خدا کی موجودگی (presence of God) کو دریافت کرے۔ یہ آزادی کے باوجود اس بات کا اقرار ہے کہ میں اپنی آزادی کو بے قید استعمال کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ یہ حشر کو دیکھے بغیر حشر کے واقعہ پر یقین لانا ہے۔ یہ اعمال کے اخروی نتائج کی حقیقت کا اُس وقت اقرار کرنا ہے جب کہ ابھی وہ ظاہر نہیں ہوئے۔ یہ خدا کے ظہور سے پہلے خدا کے جلال و جبروت کے آگے جھک جانا ہے۔ یہ کلمہ، معرفت کا کلمہ ہے، اور معرفت بلاشبہ اس دنیا کا سب سے بڑا عمل ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page