Al-Risala · December 2011 · page 5

قابلِ رشک افراد

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۵

قابلِ رشک افراد

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ سنن البیہقی کے الفاظ یہ ہیں: ألا أخبركم عن أقوام ليسوا بأنبياء ولا شهداء يغبطهم يوم القيامة الأنبياء والشهداء بمنازلهم من الله عزّ وجلّ على منابر من نور يكونون عليها ۔ قالوا: مَن هم۔ قال: الذين یحبِّبُون عباد الله إلى الله، ويحبّبون الله إلى عباده، وهم يمشون على الأرض نُصحاء (شعب الإيمان، رقم الحديث: 405) یعنی کیا میں تم کو بتاؤں ایسے لوگوں کے بارے میں جو نہ پیغمبر ہوں گے اور نہ شہید، لیکن قیامت کے دن پیغمبر اور شہید ان پر رشک کریں گے، اُن کے اُس درجے کی وجہ سے جو اللہ کے یہاں ان کو حاصل ہوگا۔ وہ وہاں نور کے ممبروں پر ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ وہ کون لوگ ہوں گے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو اللہ کے بندوں کو اللہ سے محبت کرنے والا بنائیں، اور اُن کو اس قابل بنائیں کہ اللہ اُن سے محبت کرے اور وہ زمین پر چلیں لوگوں کا ناصح (well-wisher) بن کر۔

انبیاء کے لیے قابلِ رشک بننے والے یہ کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کو اس طرح دریافت کریں کہ اللہ اُن کا محبوب بن جائے۔ وہ اللہ کی محبت میں جینے لگیں۔ اللہ سے بڑی کوئی ذات نہیں، اس لیے اللہ کی محبت سے بڑا کوئی عمل نہیں ہوسکتا۔ جب کسی انسان کا یہ حال ہوگا تو وہ دوسروں کو بھی وہی اعلیٰ ترین چیز دینے کی کوشش کرے گا جو اُس نے خود اپنے لیے پائی ہے۔ وہ اپنی ساری توانائی کو استعمال کرکے یہ کوشش کرے گا کہ دوسرے لوگ بھی خدا کو اُس کی اُس اعلیٰ حیثیت میں دریافت کریں جب کہ خدا کی معرفت اُن کے دلوں میں اتر جائے، جب کہ خدا اُن کے لیے وہ ہستی بن جائے جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرتے ہوں، جب کہ خدا کی ذات اُن کے لیے وہ اعلیٰ ہستی بن جائے جو اُن کے تمام قلبی جذبات کا مرکز ہو۔ جو لوگ اس طرح اللہ کو اپنا محبوب بنالیں تو ایسے لوگ خود بھی اللہ کے محبوب بندے بن جاتے ہیں— یہی ایمان کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page