مذہب اور عقلیات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۳
اعلیٰ تعقل کی سطح پر قابل فہم بنائیں ۔ لیکن وہ سب کے سب اس مقصد میں ناکام رہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان فلسفیوں کے پاس غور وفکر کے لیے جو فریم ورک (framework) تھا ، وہ ایک محدود فریم ورک تھا۔ اس محدود فریم ورک کے تحت ، اُنھیں خدا کے عقیدے کو ایک ثابت شدہ حقیقت بنانا تھا، لیکن اُن کا محدود فریم ورک، خدا کو اپنے تصور میں لانے کے لیے بالکل ناکافی تھا۔ اس لیے غیر معمولی فکری کوشش کے باوجود ، وہ خدا کے بارے میں اعلیٰ معرفت کا شعور دینے میں ناکام رہے۔ مثال کے طور پر تمام فلاسفہ کا مشترک ذہن اپنے فلسفیانہ فریم ورک کی بنا پر یہ تھا کہ وہ اعلیٰ حقیقت کو ایک غیر شخصی وجود (impersonal being) تصور کرتے تھے۔ اس بنا پر انھوں نے خدا کو عالمی روح (world spirit) یا عالمی تصور (world idea) جیسا نام دیا۔ مثلاً برکلے اور کانٹ اور ہیگل، وغیرہ۔ اس تصور کے تحت ، وہ فلسفیانہ فکر پیدا ہوا، جس کو آئیڈیل ازم (idealism) کہا جاتا ہے، فلسفیانہ الہیات (philosophical theology) کا دوسرا نام آئیڈیل ازم ہے۔ اس کے بعد ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کا دور آیا۔ عباسی خلافت کے زمانے میں ایک نیا علم پیدا ہوا، جو علم کلام (theology) کہا جاتا ہے۔ جو لوگ اس علم میں مشغول ہوئے ، وہ متکلمین (theologists) کے نام سے مشہور ہیں۔ متکلمین اسلام کے اس گروہ نے از سرِ نو یہ کوشش کی کہ وہ مذہبی عقیدہ ، یا خدائی عقیدہ کو عقل کی اصطلاحوں میں بیان کریں۔ لیکن ان کی کم زوری یہ تھی کہ اُن کے پاس فریم ورک کے نام سے جو چیز موجود تھی، وہ دوبارہ یونانی منطق (Greek logic) تھی۔ یونانی منطق، دراصل قیاسی منطق (syllogism) کا دوسرا نام ہے۔ یہ منطق کا وہ طریقہ ہے، جو سائنسی منطق (scientific logic) کے ظہور میں آنے سے پہلے استعمال ہوتا تھا۔ مسلم متکلمین کے پاس دلیل قائم کرنے کے لیے یہی قدیم منطق قابل حصول تھی۔ یہ منطق تعقل پسند انسان کو مطمئن کرنے کے لیے ناکافی تھی۔ اس بنا پر مسلم متکلمین بھی عقلیاتِ اسلام کے سفر کو زیادہ آگے نہ بڑھا سکے ۔ وہ بھی اس معاملے میں اُسی طرح ناکام ثابت ہوئے، جس طرح اُن سے پہلے فلاسفہ (philosophers) اس معاملے میں ناکام ثابت ہو چکے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues