Al-Risala · December 2011 · page 14

مذہب اور عقلیات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۴

اس کے بعد انیسویں صدی اور بیسوی صدی میں جدید سائنس (modern science) کا زمانہ آیا۔ اس زمانے میں فطرت میں چھپے ہوئے نئے حقائق دریافت ہوئے ۔ ان حقائق نے تاریخ میں پہلی بار وہ علمی بنیاد فراہم کی، جس کی مدد سے الہیات (theology) کو از سرِ نو سائنسی الہیات (scientific theology) کے طور پر مرتب کیا جا سکے۔ سائنسی الہیات کے ظہور نے اس بات کو آخری حد تک ممکن بنا دیا کہ خدا پرستانہ عقائد کو خود اُس علمی معیار پر مدلل کیا جا سکے، جس کو انسان کے نزدیک مسلمہ عقلی معیار کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔

مگر عجیب بات ہے کہ یہ جدید سائنسی امکان اپنی اعلیٰ ترین صورت میں سامنے آیا، لیکن اُس کو الہیات کے شعبے میں استعمال نہ کیا جا سکا۔ جدید سائنس کے ظہور کے بعد علم کے سیکڑوں شعبوں میں ایک انقلاب آ گیا۔ ہر شعبے میں یہ کوشش کی گئی کہ علوم کو جدید سائنسی معیار پر ڈیولپ کیا جا سکے۔ علمِ خلیّات (cytology) سے لے کر علمِ فلکیات (astronomy) تک بے شمار علمی شعبوں کو سائنسی ترقی کا درجہ ملا، لیکن الہیات کا علم اس اعتبار سے ایک مستثنیٰ علم بنا رہا۔ بیسویں صدی، سائنس کی زبردست سرگرمیوں کی صدی ہے، مگر الہیات کے اعتبار سے یہ صدی کسی حقیقی سرگرمی سے خالی نظر آتی ہے۔ میرے علم کے مطابق، بیسویں صدی میں دو ایسے آدمی اٹھے، جو ایک طرف تو پورے معنوں میں سائنٹسٹ تھے، اور دوسری طرف، بظاہر وہ اس بات کا شعور رکھتے تھے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ الہیات کو جدید سائنس کی بنیاد پر مرتب کیا جائے۔ اور اس طرح، الہیات کو وہی درجہ دیا جائے جو درجہ دوسرے علومِ انسانی کو حاصل ہے۔ یہ دو آدمی حسبِ ذیل تھے: سر جیمز جینز (1877-1946) Sir James Jeans ڈاکٹر عبد السلام (1926-1996) Dr. Abdus-Salam سر جیمز جینز اور ڈاکٹر عبد السلام، دونوں نے جدید الہیات کے موضوع پر کچھ جزئی، لیکن اہم کام انجام دیا۔ مثلاً سر جیمز جینز نے اپنی کتاب (1930 ,The Mysterious Universe) میں خالص سائنسی تجزیہ (Scientific analysis) کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کائنات

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page