مذہب اور عقلیات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۹
لکھی گئیں،لیکن اس آیت کی گہری معنویت مفسرین سے اوجھل رہی۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’عن قریب لوگوں کو ہم دکھائیں گے اپنی نشانیاں، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر یہ کھل جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے‘‘ (63: 41)۔ قرآن کی اس آیت میں دراصل اُس دور کی پیشین گوئی ہے جس کو جدید سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ جدید سائنس میں فطرت (nature) کو مطالعے کا موضوع بنایا گیا۔ یہ فطرت پوری کی پوری، خدا کی تخلیق ہے۔ اس تخلیق کے اندر خالق کی نشانیاں (signs of God) بے شمار تعداد میں موجود تھیں، مگر وہ مخفی انداز میں تھیں۔ جدید سائنس (modern science) نے ان نشانیوں کو کھولا، یہاں تک کہ یہ نشانیاں انسانی معلومات کے دائرے میں آگئیں۔
فطرت کی ان نشانیوں کے دو پہلو تھے۔ ایک، اُن کا ظہور۔ اور دوسرے، تبیین حق کے لیے اُن کا استعمال۔ اس معاملے میں پہلا کام سائنس دانوں کو کرنا تھا۔ انھوں نے غیر معمولی کوشش کے ذریعے اس کام کو بھر پور طور پر انجام دے دیا۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی، انھیں سائنسی دریافتوں کی صدی ہے۔ یہ دریافتیں کتابوں کی صورت میں چھپ کر ہر جگہ پھیل گئیں۔ اس کے بعد اس سلسلے میں دوسرا کام یہ تھا کہ مسلم علماء اور اہل علم ان معلومات سے واقفیت حاصل کریں اور مطلوب علمی انداز میں یہ بتائیں کہ یہ معلومات کس طرح اسلامی عقائد کے لیے استدلال کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ قرآن کی پیشگی خبر کے باوجود دورِ جدید میں اٹھنے والے مسلم علماء اور اہل علم اس جدید امکان سے بے خبر رہے اور نتیجہ وہ اُس تبیین حق کے لیے استعمال بھی نہ کر سکے۔ حدیث میں خواب کو نبوت کا چھیا لیسواں درجہ بتایا گیا ہے، یعنی ختم نبوت کے بعد بھی الہامِ خداوندی کا ایک درجہ باقی ہے جس کے ذریعے خدا اپنے بندوں کو خصوصی رہنمائی دیتا رہتا ہے۔ یہ خواب کا ذریعہ ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ مجھ پر بہت سی باتیں خواب کے ذریعے کھلیں۔ یہ بات بھی مجھ پر خواب کے ذریعہ واضح ہوئی کہ تبیین حق کے اس اہم کام کے لیے مجھ کو اٹھنا ہے، اپنے تمام تر عجز کے باوجود اللہ کے بھروسے پر مجھ کو یہ کام انجام دینا ہے۔ اسی ذیل کا ایک تجربہ وہ ہے جو گویا کہ مجھے بین النوم والیقظہ پیش آیا: ستمبر 1963 کی 21 تاریخ تھی۔ راقم الحروف ندوہ (لکھنؤ) کی مسجد میں تھا اور ظہر کی سنتیں
‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues