Al-Risala · December 2011 · page 18

مذہب اور عقلیات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۸

چھوٹی قیامت تھی جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اس واقعے کو دیکھ کر جو تاثر میرے اوپر ہوا، وہ میری پوری زندگی پر چھا گیا۔ اس کے بعد میری تقریروں اور تحریروں میں انذارِ آخرت کا پہلو نمایاں وصف کے طور پر شامل ہو گیا۔ میرے استاد مولانا امین احسن اصلاحی (وفات: 1998) سے ایک شخص نے پوچھا کہ قرآن کا خلاصہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ سرگزشتِ انذار۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات بلاشبہ درست ہے، اور جو لوگ میری تقریر اور تحریر سے واقف ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میری تقریر اور تحریر میں یہی انداز غالب نظر آتا ہے۔

اسی طرح میری زندگی میں ایک اور واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے نے میری تحریر میں سائنسی اسلوب کو گہرائی کے ساتھ شامل کر دیا۔ فروری 1955 کا واقعہ ہے۔ لکھنؤ کے امین الدولہ پارک میں جماعتِ اسلامی ہند کے زیرِ اہتمام ایک اجتماع ہوا۔ اس موقع پر اسلام کے عقلی اثبات پر راقم الحروف کی ایک تقریر ہوئی۔ تقریر کے بعد جب اعلان کیا گیا کہ وہ چھپی ہوئی صورت میں یہاں بک اسٹال پر موجود ہے، تو انسانوں کا ایک ہجوم اُس کو لینے کے لیے اسٹال پر ٹوٹ پڑا۔ تقریر کے مطبوعہ نسخے ہاٹ کیک (hot cake) کی طرح فروخت ہوگئے۔ بعد کو یہ تقریر پمفلٹ کی صورت میں شائع ہوئی۔ اردو میں اُس کا نام تھا ’’نئے عہد کے دروازے پر‘‘، ہندی میں ’’نو یُگ کے پرویش دُوار پر‘‘ اور انگریزی میں: On the Threshold of a New Era اس مقالے کی ترتیب کے دوران میں نے جو مطالعہ کیا، اُس سے دعوت کا ایک پہلو زیادہ واضح ہو کر سامنے آیا، وہ یہ کہ جدید سائنسی دریافتوں نے جو نیا مواد (data) فراہم کیا ہے، وہ ہم کو موقع دیتا ہے کہ ہم زیادہ مدلل اور موثر انداز میں دعوتِ حق کا کام کر سکیں۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو سائنس گویا کہ اسلام کا علمِ کلام (theology) ہے۔ سائنسی دریافتوں نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ حق کی دعوت کو ایسے اسلوب میں پیش کیا جائے، جو جدید انسان کے لیے قولِ بلیغ (63: 4) کے ہم معنی بن جائے۔ اسی زمانے میں مجھ پر قرآن کی ایک آیت کا مفہوم زیادہ واضح انداز میں کھلا۔ یہ آیت قرآن کی سورہ حم السجدہ میں ہے، مگر عجیب بات ہے کہ پچھلے زمانے میں قرآن کی تفسیر میں کثیر تعداد میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page