Al-Risala · December 2011 · page 24

مذہب اور عقلیات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۴

بلکہ وہ ایک ایسا نظریہ بن گیا ہے، جس کی پشت پر ایک خالص سائنسی بنیاد موجود ہے۔ کا سمک بال میں انفجار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی خارجی عامل (factor) موجود تھا جس کی مداخلت سے یہ انفجار وجود میں آیا۔ کیوں کہ طبیعیاتی قوانین کے مطابق، خود بخود یا کسی داخلی سبب سے ایسا انفجار ہرگز ممکن نہ تھا۔ اس طرح، علّۃ العلل کا نظریہ اب ایک ثابت شدہ نظریہ بن چکا ہے، نہ کہ صرف ایک قیاسی نظریہ۔ 3- کائنات میں بظاہر بہت زیادہ تنوع پایا جاتا ہے۔ اس تنوع کی بنا پر شرک کا عقیدہ پیدا ہوا۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ جب تخلیق میں تنوع ہے، تو اس کا خالق بھی کئی ہونا چاہیے۔ نیوٹن کے زمانے میں یہ نظریہ قائم کیا گیا کہ چار طاقتیں ہیں جو پورے عالم کو کنٹرول کرتی ہیں۔ وہ چار طاقتیں ہیں: 1- قوت کشش (gravitational force)

2- برقی مقناطیسی قوت (electromagnetic force)

3- طاقت ور نیوکلیئر قوت (strong nuclear force)

4- کم زور نیوکلیئر قوت (weak nuclear force)

یہ قدیم سائنسی نظریہ بظاہر شرک کے عقیدے کی موافقت کر رہا تھا۔ لیکن سائنس داں اس قسم کے چار نظریے پر مطمئن نہ تھے۔ ان کو نظر آتا تھا کہ کائنات میں بہت زیادہ ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی ہے۔ ایسی ہم آہنگ کائنات میںچار طاقتوں کا نظریہ انھیں بے جوڑ نظر آتا تھا۔ چناں چہ سائنس دانوں کی تحقیق جاری رہی، یہاں تک کہ یہ ثابت ہو گیا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقت صرف ایک ہے۔ اس دریافت کو سنگل اسٹرنگ تھیوری (single string theory) کہا جاتا ہے۔ اس جدید سائنسی دریافت نے شرک (polytheism) کے نظریے کا علمی طور پر خاتمہ کر دیا۔ اب علم اور عقل کی بنیاد صرف توحید (monotheism) کے نظریے کو حاصل ہے۔ اب توحید کا نظریہ ایک ثابت شدہ سائنسی نظریے کی حیثیت رکھتا ہے، نہ کہ سادہ طور پر صرف ایک مذہبی عقیدہ۔ 4- قدیم زمانے میں علماے الہیات، خدا کے وجود کو اس طرح ثابت کرتے تھے کہ — کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ہر چیز میں کامل ڈیزائن پایا جاتا ہے۔ اور جہاں ڈیزائن (design)

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page