Al-Risala · December 2011 · page 25

ای اسٹائی،

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۵

ہو، وہاں ڈیزائنر (designer) کا وجود بھی اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے: When there is a design, there is a designer. and when the designer is proved, God is also proved. استدلال خالص منطقی اعتبار سے ایک درست استدلال تھا، لیکن قدیم زمانہ میں سمجھایا جاتا تھا کہ یہ ثانوی (secondary) درجے کا استدلال ہے۔ وہ اول درجے کا استدلال نہیں۔ کیوں کہ یہ استدلال ایک استنباط (inference) پر مبنی تھا، نہ کہ براہِ راست مشاہدے کی بنیاد پر۔ سائنسی تحقیق جب تک عالم کبیر (macro world) تک محدود تھی، اُس وقت تک یہ استدلال بظاہر درست نظر آتا تھا۔ کیوں کہ اُس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ تمام حقیقی چیزیں اپنا مادی جسم رکھتی ہیں، اِس بنا پر وہ قابلِ مشاہدہ (visible) ہیں۔ گویا کہ جو چیز دوربین یا خورد بین کے ذریعے نہ دیکھی جاسکتی ہو، وہ کوئی حقیقی چیز بھی نہیں۔ لیکن بیسویں صدی میں سائنس کی تحقیقات، عالم کبیر سے گزر کر عالم صغیر (microworld) تک پہنچ گئیں۔ یہ سائنس کی دنیا میں ایک عظیم انقلاب تھا۔ اِس کے بعد یہ ثابت ہوا کہ یہاں ایسی چیز بھی موجود ہوسکتی ہے، جو نہ خورد بین سے دیکھی جاسکے اور نہ دوربین سے۔ اِس طرح کی چیزوں کو مشاہداتی ذرائع سے معلوم نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی چیز کے وجود کو صرف استنباط (inference) کے ذرائع سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔

سائنس کی اِس ترقی کے بعد یہ ہوا کہ معقول استدلال (valid argument) کا قدیم تصور ختم ہوگیا۔ اب علمی طور پر یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال (inferential argument) بھی اتناہی (inferential argument) ہو لیا۔ اب کی طور پر یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال معقول (valid) ہے، جتنا کہ براہِ راست مشاہدے کی بنیاد پر قائم کیا ہوا استدلال۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے اس پتے پر رابطہ کریں: The Spiritual Message 101, Prathemesh Apartement Azad Road, Gundavli, Andheri (East), Mumbai-400 069 (India)

ای اسٹائی،

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page