Al-Risala · December 2011 · page 30

تہذیبی ماڈل

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۰

نظریہ، پیراڈائز کو وجود میں لانے سے پہلے ہی اپنی آخری ناکامی کے ساتھ ختم ہوگیا۔ بھلا وہ کلچر پیراڈائز کے معاملے میں ایک اور قسم کا تصور بہت اہم ہے۔ اس کو تمثیل کی زبان میں آسٹرچ پیراڈائز (ostrich paradise) کہا جاسکتا ہے۔ یہ اُن لوگوں کا تصور ہے جن کے سامنے پیراڈائز کی بات کہی جائے تو وہ اپنا یہ فارمولا پیش کر دیں گے___ آج کی بات آج، کل کی بات کل۔ اُن کا کہنا ہے کہ ابھی اور آج جو کچھ مل رہا ہے، اُس کو حاصل کرو۔ ایک لفظ میں اُن کا فارمولا یہ ہے: right here, right now ان کی زندگی اس نظریے پر مبنی ہے کہ___ محنت سے پیسہ کماؤ اور عیش کی زندگی گزارو: work, hard, party hard اس نظریے کی صحت کو جانچنے کے لیے ہمیں اس کو نتیجہ (result) کے نقطۂ نظر سے دیکھنا ہوگا، اور جب نتیجے کے پہلو سے اس نظریے کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ سرے سے قابلِ عمل ہی نہیں۔ جو لوگ اس قسم کے الفاظ بولتے ہیں، وہ خود اس کا مثبت نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ بظاہر یہ خوب صورت الفاظ ہر ایک کے لیے صرف منفی نتیجہ لے کر سامنے آئے ہیں۔ اس قسم کے لوگ زیادہ پیسہ کماتے ہیں، مگر زیادہ پیسہ صرف ان کے لائف اسٹائل اور ان کی غذائی عادت (food habit) کو بگاڑ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں شوگر، بلڈ پریشر اور کینسر جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ زیادہ پیسہ کما کر یہ لوگ اپنا اسٹریس (stress) دور کرنے کے لیے آؤٹنگ پر جاتے ہیں، لیکن جب وہ اپنی آؤٹنگ سے لوٹتے ہیں تو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نیا مسئلہ ہالی ڈے اسٹریس (holiday stress) کی صورت میں لے کر واپس آئے ہیں۔

زیادہ پیسہ کما کر وہ اپنی شاپنگ کو بڑھاتے ہیں، لیکن اُس کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ سطحی چیزوں میں اپنی مشغولیت کی وجہ سے اُس چیز سے محروم ہوجاتے ہیں، جس کو اعلیٰ سوچ (high thinking) کہا جاتا ہے۔ زیادہ پیسہ کما کر وہ لو افئر (love affair) کا کلچر چلاتے ہیں، لیکن اس کا نتیجہ برعکس طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page