Al-Risala · December 2011 · page 29

تہذیبی ماڈل

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۹

مصلوب ہوکر اُن کی طرف سے اُن کے تمام گناہوں کا کفارہ بن گئے ہیں۔

موجودہ مسیحیت کا تصور بھی انسانی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پیدائشی گناہ (original sin) کا نظریہ ایک فلسفیانہ نکتہ تو ہوسکتا ہے، لیکن وہ انسان کی فطرت کے اعتبار سے بالکل اجنبی ہے۔ انسان کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ جو شخص کوئی بُرا عمل کرے، وہی اپنے عمل کی سزا بھگتے۔ گناہ کوئی اور شخص کرے اور اس کی گنہ گاری پیدائشی طور پر کسی اور شخص تک پہنچ جائے، یہ وراثتی گنہ گاری (hereditary sin) ہے۔ اور وراثتی گنہ گاری کا نظریہ انسانی فطرت سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا۔

تہذیبی ماڈل

اسی طرح ایک ماڈل وہ ہے جس کو تہذیبی ماڈل (civilizational model) کہا جا سکتا ہے۔ تہذیب (civilization) سے مراد ہے سماجی ترقی کا برتر مرحلہ:

An advanced stage or system of social development. موجودہ زمانے میں جب تہذیبی ترقی یہاں تک پہنچی کہ نئی قسم کی ٹیکنالوجی اور نئی قسم کی ترقی انسان کی دست رس میں آگئی، تو یہ سمجھا جانے لگا کہ اب پیراڈائڑ کے لیے ایک اور دنیا کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب اسی دنیا میں انسان اپنی پیراڈائڑ آپ بنا سکتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہ انسان اب اس پوزیشن میں ہو گیا ہے کہ وہ اپنی پیراڈائڑ آپ بنا سکے۔ لیکن جلد ہی یہ خواب منتشر ہو گیا۔ بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں پہنچ کر یہ معلوم ہوا کہ پیراڈائڑ کو تعمیر کرنے والی انڈسٹری اپنے آخری اسٹیج میں پہنچ کر ایک نئے قسم کا جہنم وجود میں لانے کا سبب بن رہی ہے۔ اس نئے جہنم کا نام موجودہ زمانے میں گرین ہاؤس گیس (green house gas) ہے، یعنی دنیا کا ایسی مضر گیسوں سے بھر جانا جس میں انسان کی زندگی ہی ممکن نہ رہے۔

اس تجربے نے بتایا کہ پیراڈائڑ کو وجود میں لانے کے لیے بے کثافت انڈسٹری (pollution free industry) درکار ہے، اور تمام تجربات بتاتے ہیں کہ بے کثافت انڈسٹری کو وجود میں لانا انسان کے لیے سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس طرح تہذیبی جنت (civilization paradise)

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page