ترجیح کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۸
سوال و جواب سوال میرے تجربہ کے مطابق، امریکا کے مسلمانوں میں آج کل لفظ بہت زیادہ رائج ہے، وہ ہے اہل سنت والجماعۃ۔ اس لفظ کا مفہوم اُن کے نزدیک یہ ہے کہ مسلم ملت عمومی طور پر جس مسلک پر قائم ہے، وہ درست مسلک ہے۔ براہ کرم واضح فرمائیں کہ اہل سنت والجماعت سے کیا مراد ہے۔ اور کیا اہل سنت والجماعت کا مذکورہ مفہوم درست ہے۔ (خواجہ کلیم الدین، امریکا) جواب اہل سنت والجماعت کا مذکورہ مفہوم درست نہیں۔ ذیل میں اس سوال کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ”أهل السنة والجماعة“ کا لفظ پہلی بار عبداللہ بن عباس نے استعمال کیا (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 390)۔ ”الجماعة“ کے بارے میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ایک بڑا مجموعہ نہیں، بلکہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو حق پر قائم ہیں، حتیٰ کہ اگر صرف ایک شخص بھی حق پر قائم ہے تو وہ حدیث میں بیان کردہ ”الجماعة“ کا مصداق ہے۔ ابن مسعود نے فرمایا ہے: ”الجماعة: ما وافق الحق إن كنت وحدك۔ “ ”ولو كان التمسك شخصاً واحداً“ (إغاثة اللهفان لابن قيم الجوزية، 1/69) غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل السنۃ والجماعت سے مراد وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: ما أنا عليه وأصْحَابِي، یعنی صحابہ اور دوسرے وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی سچی پیروی کرنے والے ہیں، یعنی متبعین سنت اور اصحاب رسول۔ سوال حق کی معرفت کے لیے کیا صرف مطالعہ کی کثرت کافی ہے یا اس کے لیے کوئی اور چیز درکار ہے۔ براہ کرم، اس سوال کی وضاحت فرمائیں۔ (عدنان خان، نئی دہلی)
جواب
میں کچھ ایسے افراد سے واقف ہوں جو حق کے متلاشی (seeker) تھے۔ انھوں نے بہت زیادہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues