Al-Risala · December 2011 · page 39

ترجیح کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۹

مطالعہ ک، بلکہ وہ ساری عمر مطالعہ ہی کرتے رہے۔ مگر بیش تر لوگ حق تک نہ پہنچ سکے، وہ کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ گئے۔ اپنے تجربے سے میں نے یہ جانا ہے کہ زیادہ مطالعے کا پلس پوائنٹ بھی ہے اور مائنس پوائنٹ بھی۔ اگر آدمی کے اندر تجزیہ (analysis) کی صلاحیت ہو، تو اس کا زیادہ مطالعہ اُس کو سچائی تک پہنچادے گا۔ اور اگر اس کے اندر تجزیہ کی صلاحیت نہ ہو، تو اُس کا زیادہ مطالعہ صرف اس کے کنفیوژن میں اضافہ کرے گا۔ مجھے ایک ایسے شخص کا علم ہے جس نے بہت زیادہ مطالعہ کیا اور پھر وہ سچائی تک پہنچا، کیوں کہ اس کے اندر تجزیہ کی صلاحیت تھی۔ یہ ایک بنگالی ہندو، ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیاتھے۔ انھوں نے گہرے مطالعے کے بعد اسلام قبول کر لیا۔ اس کے برعکس مثال، ڈاکٹر رادھا کرشنن کی ہے۔ انھوں نے بہت زیادہ مطالعہ کیا، لیکن وہ سچائی تک نہ پہنچ سکے۔ آخر میں ان کا حافظہ ختم ہو گیا تھا، وہ کسی کو پہچانتے نہ تھے۔ اُن کا کیس میڈنیس (madness) کا کیس بن گیا۔ اسی حال میں وہ مر گئے۔ ان کا یہ حال اس لیے ہوا کہ ان کے اندر تجزیہ کی صلاحیت نہ تھی۔ میں نے ان کی کتابیں پڑھی ہیں۔ ان کی انگریزی بہت اچھی تھی، لیکن ان کتابوں میں کنفیوژن کے سوا اور کچھ نہیں۔

سوال

پاکستان کے بعض علماء اور مجاہدین کا کہنا ہے کہ حدیث میں مذکور ’’غزوہ ہند‘‘ کی روایت سے مراد انڈیا یا اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگ ہے۔ براہِ کرم، اس روایت کے الفاظ اور اس کے مفہوم کو واضح فرمائیں (بلال احمد، پاکستان)۔

جواب

یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ سنن البیہقی کے متعلق الفاظ یہ ہیں : عصابتان من أمتي أحرزهما الله من النار: عصابة تغزو الهند (السنن الكبرى للبيهقي، رقم الحديث : (17118) یعنی میری امت کے دوگروہ ہیں جن کو اللہ نے آگ سے بچا لیا ہے— ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جو ہند میں غزوہ کرے گا۔

یہ بات بلاشبہ درست ہے کہ پاکستان کے بعض انتہا پسند لوگ اپنی اُس لڑائی کو اس روایت کا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page