ڈی کنڈیشننگ کا عمل
الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۸
ڈی کنڈیشننگ کا عمل
تزکیہ ایک مسلسل عمل ہے۔ وہ صبح و شام جاری رہتا ہے۔ اس معاملے کو حدیث میں ایک مثال کے ذریعے اس طرح بتایا گیا ہے: انّ هذه القلوب تصدأ كما يصدأ الحديد إذا أصابه الماء. قيل: يا رسول الله، وما جلاؤها. قال: كثرة ذكر الموت، وتلاوة القرآن (البیہقی، بحوالہ مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 2168) یعنی دلوں میں زنگ لگتا ہے، جیسے کہ لوہے میں زنگ لگتا ہے جب کہ اس پر پانی پڑ جائے۔ پوچھا گیا کہ اے خدا کے رسول، اس کو صاف کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرنا اور قرآن کا مطالعہ کرنا۔ اس حدیث رسول میں تمثیل کے ذریعے ایک نفسیاتی حقیقت کو بتایا گیا ہے، وہ یہ کہ سماج کے اندر رہتے ہوئے انسان بار بار ایسے حالات سے گزرتا ہے جو اس کے اندر منفی جذبات پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً غصہ، نفرت، تشدد، انتقام، وغیرہ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ان جذبات کو فوراً ختم کرے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ منفی جذبات انسانی ذہن کا مستقل حصہ بن جائیں گے، یہاں تک کہ اُن کو دور کرنا عملاً ناممکن ہو جائے گا۔ انسانی دماغ کے دو بڑے حصے ہیں ـــ شعور (conscious mind)، اور لاشعور (unconscious mind) ـــ فطری نظام کے تحت، کوئی منفی احساس پہلے ذہن کے شعوری حصے میں داخل ہوتا ہے۔ اگر اس کو فوراً ذہن سے نکالا نہ جائے تو وہ دھیرے دھیرے ذہن کے لاشعوری حصہ میں پہنچ جاتا ہے، جہاں سے اس کو نکالنا سخت مشکل ہو جاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہر لمحہ اپنا نگراں رہے، وہ ہر لمحہ اپنے منفی احساس کو پراسس (process) کرکے مثبت احساس میں تبدیل کرتا رہے، یعنی وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کرے، وہ اپنے ذہن کی تطہیر کرکے اس کی آلودگی کو ختم کرتا رہے۔ اس تطہیر یا ڈی کنڈیشننگ کا ذریعہ ہے۔ اپنی موت کو بار بار یاد کرنا اور قرآن کی روشنی میں زندگی کے انجام پر غور و فکر کرتے رہنا۔ تزکیہ: روحانی خوراک جسم کی ایک خوراک ہے۔ یہ خوراک جسم کو پہنچائی جائے تو جسم صحت مند ہو جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues