عبادت میں اجتہاد نہیں
الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۹
اسی طرح روح کی ایک خوراک ہے۔ یہ خوراک جب روح کو پہنچائی جاتی ہے تو روح صحت مند ہو جاتی ہے۔ اسی عمل کا نام تزکیہ نفس ہے اور اسی صحت مند روح کو مصفیٰ اور مزکیٰ روح کہا جاتا ہے۔ قرآن کے مطابق، روح کی یہ خوراک تفکیر (191:3) ہے۔ آدمی کے اردگرد ہر وقت کچھ واقعات پیش آ رہے ہیں۔ سماجی، تاریخی، کائناتی، ہر سطح پر اور ہر آن ان واقعات کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ ان واقعات کو لے کر سوچنا اور اُن سے عبرت اور نصیحت لینا، یہی روح کی خوراک ہے۔ جو شخص اپنے شعور کو اتنا ترقی دے کہ اُس کو گردو پیش کے واقعات میں خدائی کرشمے دکھائی دیں، جو اُس کے لیے خدا کو یاد دلانے کا ذریعہ بن جائیں تو ایسے شخص نے گویا اپنی روح کے لیے رزق ربانی کا ایک دسترخوان حاصل کر لیا۔ اس کی روح اس دسترخوان سے اپنی صحت مندی کی خوراک حاصل کرتی رہے گی، یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جا ملے۔
تزکیہ کا اہم ترین ذریعہ یہ ہے کہ اپنے اندر عبرت پذیری کے مزاج کو جگایا جائے۔ عبرت پذیری گویا تزکیہ کی زمین ہے۔ یہی وہ زمین ہے جس پر تزکیہ کی فصل اگتی ہے۔ کسی اور جگہ اس کو اگانا ایسا ہی ہے جیسے پتھر کی چٹان پر ایک ہرا بھر ا درخت اگانے کی کوشش کرنا۔
تزکیہ کا ذریعہ رزق رب ہے، نہ کہ رزقِ شیخ۔ تزکیہ اُس عمل کا نتیجہ ہے جو بندہ اور خدا کے درمیان نفسیاتی تعلق کے ذریعے براہِ راست قائم ہوتا ہے، تزکیہ کسی واسطے کے ذریعے نہیں ملتا۔ تزکیہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک خدائی عطیہ ہے، نہ کہ ایک انسانی عطیہ۔
تزکیہ وہ نعمت ہے جو کسی انسان کو براہِ راست خدا سے ملتی ہے۔ کسی انسان کے واسطے سے جو تزکیہ ملے، وہ کچھ اور ہو سکتا ہے، لیکن وہ تزکیہ نہیں ہو سکتا۔
عبادت میں اجتہاد نہیں
ایک عالم ایک مشہور صوفی بزرگ کی خانقاہ میں گئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ لوگ ذکر بالجہر اور دوسرے متصوفانہ اعمال میں مشغول ہیں۔ مذکورہ عالم نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے : مَن أحدث في أمرنا هذا ماليس منه فهو رد (صحيح البخاري، رقم الحديث : 2697) یعنی جو شخص
‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues