Al-Risala · February 2011 · page 11

غلطی کے بعد محاسبہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۱۱

حقیقت یہ ہے کہ جس طرح آدمی ہر وقت سانس لیتا ہے، سانس لینے کوئی وقتی طریقہ نہیں، اسی طرح تزکیہ بھی ایک مسلسل عمل ہے۔ حقیقی تزکیہ صرف وہی ہے جو ہر وقت جاری رہے۔ مثال کے طور پر ایک فارسی شاعر کا شعر ہے کہ ؀ مجھ غریب کی قبر پر نہ کوئی چراغ ہے اور نہ کوئی پھول، اس لیے میری قبر پر نہ پروانہ رقص کرتا اور نہ کسی بلبل کے چہکنے کی آواز آتی: بر مزار ما غریباں، نہ چراغے، نہ گلے ؀ نی پر پروانہ رقصند، نی صدایے بلبلے یہ شعر آپ کو یاد آیا تو آپ سوچنے لگے کہ شاعر کتنی زیادہ بڑی بھول میں مبتلا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر کوئی چراغ اور کوئی پھول نہیں، اس لیے وہاں نہ کوئی پروانہ آتا اور نہ کوئی بلبل۔ حالاں کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد آدمی ایک اور دنیا میں پہنچ گیا، جہاں کے تقاضے موجودہ دنیا سے مختلف ہیں، جہاں کا کامیابی کے لیے اُس سے مختلف ایک اور اہلیت (ability) درکار ہے جو موجودہ دنیا میں اس کے کام آرہی تھی۔ مزید یہ کہ اگلی دنیا میں دوبارہ تیاری کا موقع نہیں۔ اگلی دنیا میں صرف آج کے عمل کا انجام پانا ہے، نہ کہ دوبارہ کوئی عمل کرنا۔ اس سوچ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جو شعر صرف مشاعرے کا ایک آئٹم تھا، وہ آدمی کی زندگی کے لیے ایک بھونچال بن جائے گا۔ وہ اس تیاری میں لگ جائے گا کہ وہ اپنے اندر ایک ایسی شخصیت کی تعمیر کرے جو موت کے بعد آنے والے مرحلہ حیات میں اس کے کام آئے، جو آخرت کی دنیا میں اس کو کامیابی دلانے والی ہو۔ یہ سوچ کر وہ خود اپنے آپ پر گزرنے والے احوال کے بارے میں سوچنے لگے گا، نہ کہ قبر پر گزرنے والے احوال کے بارے میں۔

غلطی کے بعد محاسبہ

تزکیہ کا ایک بہت بڑا ذریعہ محاسبہ (introspection) ہے۔ محاسبے کے ذریعے آدمی کا ذہن بیدار ہوتا ہے، اس کی شخصیت میں ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ اس کے اندر اپنی اصلاح کا داعیہ (incentive) جاگتا ہے۔ اس طرح محاسبہ آدمی کو ذہنی اور روحانی ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص نے آپ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہہ دی جو آپ کو ناگوار ہوئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page