Al-Risala · February 2011 · page 10

تزکیہ ہر وقت

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۱۰

ہمارے دین میں کوئی نئی بات نکالے، جو اس میں نہ ہو، تو وہ قابل رد ہے۔ عالم نے کہا کہ یہ متصوفانہ اعمال جو آپ کے یہاں رائج ہیں، وہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں نہیں تھے، اس لیے وہ احداث (innovation) کا درجہ رکھتے ہیں۔ مذکورہ بزرگ نے جواب دیا کہ حدیث میں ”إحداث في الأمر“ (دین میں بدعت) کی ممانعت ہے، اُس میں ”إحداث للأمر“ (دین کے لیے بدعت) کی ممانعت نہیں ہے اور تصوف کے یہ طریقے احداث للامر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مذکورہ حدیث رسول کی یہ توجیہ غیر علمی توجیہ ہے، وہ حدیث کے الفاظ سے ہرگز نہیں نکلتی۔ حدیث میں یہ لفظ آیا ہے کہ: ما لیس منہ (جو اُس میں نہ ہو)، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین چھوڑا ہے، اُس دین میں وہ موجود نہ ہو۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ فی یا لام کے صلہ (preposition) کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو دین ہم کو ملا ہے، اس میں بعد کا یہ اضافہ موجود تھا یا موجود نہیں تھا۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ذکر بالجہر جیسی چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑے ہوئے دین میں موجود نہیں، اور جب وہ رسول اللہ کے چھوڑے ہوئے دین میں موجود نہیں ہیں، تو فی اور لام جیسے نکتوں کے ذریعے اس کو دین محمدی میں شامل کرنا، صرف ایک مبتدعانہ جسارت ہے۔ اس قسم کا نکتہ ایسے اضافوں کے لیے کوئی قابل قبول وجہ جواز نہیں۔ علماء کا اتفاقی مسلک ہے کہ عبادت میں قیاس نہیں (لا قياس في العبادات)، یعنی تعبدی امور میں صرف تقلید ہے، اس میں کوئی اجتہاد نہیں۔ تعبدی امور میں کوئی استدلال صرف صریح نص پر قائم ہوسکتا ہے، اُس کو لفظی نکتوں کی بنیاد پر قائم نہیں کیا جا سکتا۔ تعبدی امور میں لفظی نکتوں کی بنیاد پر اجتہاد کرنا عقلی اعتبار سے غیر علمی ہے اور دینی اعتبار سے ناقابل قبول جسارت۔

تزکیہ ہر وقت

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تزکیہ کا ایک وقتی کورس ہے، یا کچھ اذکار و اوراد ہیں جن کو متعین اوقات میں پڑھ لیا جائے، مگر یہ تزکیہ کا رسمی یا غیر فطری طریقہ ہے اور کوئی بھی چیز اس طرح کے وقتی طریقوں کے ذریعے حاصل نہیں ہوتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page