Al-Risala · February 2011 · page 13

غلطی کے بعد محاسبہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۱۳

تزکیہ مبنی بر عقل تزکیہ ہے، نہ کہ مبنی بر قلب تزکیہ۔ اس سلسلے میں ’’قلب‘‘ کا لفظ قرآن اور حدیث میں لٹریری معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، نہ کہ سائنسی معنوں میں۔

بعد کے زمانے میں، صوفیا کے اثر سے مسلمانوں میں مبنی بر قلب تزکیہ کا تصور رائج ہو گیا۔ اس تصور کے تحت یہ سمجھ لیا گیا کہ انسان کا قلب تمام ربانی حقیقتوں کا خزانہ ہے۔ مراقبہ (meditation) کے ذریعہ اس خزانہ تک پہنچو، اور پھر تم کو وہ چیز حاصل ہو جائے گی جس کو اسلام میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ مگر مبنی بر قلب (heart-based) تزکیہ کا یہ تصور قرآن سے ماخوذ نہ تھا، بلکہ اس کا ماخذ تاریخ تھا۔ قدیم زمانے سے چوں کہ مبنی بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) کا تصور لوگوں کے درمیان چلا آ رہا تھا، اس کے زیر اثر مضافات (9:30) کے طور پر لوگوں نے اس کو اسلام میں داخل کر دیا۔ جدید سائنس نے وہ علمی بنیاد فراہم کر دی ہے جس کے تحت اسلامی تزکیہ کو دوبارہ مبنی بر دماغ تزکیہ کے طور پر زندہ کیا جائے۔ جدید تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان کا قلب خون کی گردش (circulation of blood) کے لیے صرف ایک پمپ (pump) کا کام کرتا ہے، قلب کے اندر سوچنے کی صلاحیت موجود نہیں۔ سوچنے کی صلاحیت تمام تر صرف دماغ میں ہے۔ انسان کی زندگی کے تمام افعال سوچنے کے ذریعہ وجود میں آتے ہیں۔ تزکیہ کا معاملہ کوئی مستثنیٰ معاملہ نہیں۔ تزکیہ کا مقصد بھی دماغ کی سطح پر سوچنے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ قلب پر مفروضہ توجہ دینے سے۔ قلب پر توجہ دینا، اتنا ہی زیادہ بے بنیاد ہے، جتنا کہ حصولِ تزکیہ کے لیے ناخن یا بال پر توجہ دینا۔ رہنما کی ضرورت تزکیہ کا ذریعہ اصولاً یہ ہے کہ آدمی قرآن میں غور کرے، وہ حدیث کا مطالعہ کرے، وہ اصحاب رسول کی زندگیوں سے رہنمائی حاصل کرے ۔ یہ تزکیہ کا اصولی ماخذ ہے۔ اس کی یہ حیثیت ابدی طور پر باقی رہے گی۔ اس کے علاوہ، تزکیہ کے حصول کی ایک عملی شرط بھی ہے، اور وہ ہے اپنے زمانے کے کسی رہنما یا مرشد کو تلاش کرنا اور اس کے علم اور اس کے تجربے سے فائدہ اٹھانا۔ آدمی کو جب کوئی مرشد مل جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ بلا شرط اس کو اپنا مرشد بنا لے۔ مرشد کو مشروط طور پر ماننا تزکیہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page