غلطی کے بعد محاسبہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۱۴
کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے، نہ کہ مددگار۔ جب ایک شخص یہ کہے کہ میں نے فلاں انسان کو اپنا غیر مشروط رہنما مان لیا، تو اس کا مطلب اندھا مقلد بننا نہیں ہوتا، اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ شعوری ارتقا کے نتیجے میں دو انسانوں کا ویولینتھ (wavelength) ایک ہو گیا۔ یہ ذہنی ہم آہنگی کا واقعہ ہے، نہ کہ ذہنی تقلید کا واقعہ۔ اصل یہ ہے کہ حقیقت نفس الامری میں تعدد نہیں ہوتا، اس لیے جب دو انسان اصل حقیقت تک پہنچ جائیں تو فطری طور پر ان کے درمیان ذہنی ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے فکری توأم (intellectual twin) بن جاتے ہیں۔
تزکیہ کے لیے رہنما یا مرشد لازمی طور پر ضروری ہے، لیکن مرشد کی اہمیت عملی ہے، نہ کہ اعتقادی۔ مرشد کی اہمیت دراصل ایک عمومی سنت اللہ کے تحت ہے۔ اس سنت اللہ کو سورہ الزخرف کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ورفعنا بعضہم فوق بعض درجات، ليتخذ بعضهم بعضاً سخرياً (43:32) یعنی ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی یہ سنت نہیں ہے کہ وہ ہر شخص کو قائدانہ صفات کے ساتھ پیدا کرے۔ خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ ایک شخص کو قائد بناتا ہے اور دوسروں سے یہ مطلوب ہوتا ہے کہ وہ اس کی پیروی کریں۔ خدا کی سنت کے مطابق ، یہی زندگی کا فطری نظام ہے۔ مرشد کا معاملہ بھی اسی سنت اللہ کے مطابق ہے۔ اللہ تعالی خصوصی اہتمام کے ذریعے کسی کو مرشد کے مقام پر کھڑا کرتا ہے۔ دوسروں کا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو پہچانیں اور اس سے استفادہ کرتے ہوئے تزکیہ کا مقصد حاصل کریں۔ جو لوگ ایسا نہ کریں، وہ گویا کہ فطرت کی ایک آزمائش میں ناکام ہوگئے۔ مرشد کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ یہ ایک معلوم عقلی معاملہ ہے۔ غور و فکر کے ذریعے اس کو سمجھا جا سکتا ہے۔ مرشد سے جو چیز ملتی ہے، وہ پراسرار ''فیض‘‘ نہیں ہے، وہ وہی چیز ہے، جس کو عام طور پر تربیتی استفادہ کہا جاتا ہے۔ مرشد ایک زندہ رہنما ہوتا ہے، نہ کہ پراسرار طور پر کوئی مقدس شخصیت۔ تزکیہ کے لیے ربط کی اہمیت تزکیہ لیے صحبت (companionship) ایک مددگار ذریعہ ہے۔ قدیم زمانے میں صحبت کا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues