Al-Risala · February 2011 · page 24

تزکیہ کا زیادہ مؤثر طریقہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۴

باقی رہیں گے جو تجربہ کے بعد یہ ثابت کریں گے کہ یہ فہرست ایک ناقص فہرست تھی۔ اصل یہ ہے کہ تزکیہ کا تعلق کسی فہرست سے نہیں ہے، بلکہ انسان کے اپنے ارادے سے ہے۔ اگر انسان فی الواقع تزکیہ کے معاملے میں سنجیدہ ہو اور وہ دیانت دارانہ طور پر اپنا تزکیہ کرنا چاہتا ہو تو وہ ضرور اپنا تزکیہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، لیکن اگر آدمی اس معاملے میں پوری طرح سنجیدہ نہ ہو اور وہ اپنا تزکیہ کرنے کے لیے حریص نہ ہو تو کوئی بھی تحریر یا تقریر اس کا تزکیہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔ انسان کی ایک انوکھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی ہر غلطی کی توجیہہ (justification) تلاش کر لیتا ہے۔ وہ اپنی ہر غلطی کو درست ظاہر کرنے کے لیے خوب صورت الفاظ پالیتا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی بھی مصلح یا مربی اس کا تزکیہ نہیں کر سکتا۔ تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود اپنے بارے میں ایک باشعور فیصلہ کرے۔ اس کا یہ فیصلہ اتنا زیادہ محکم ہو کہ وہ ہر حال میں اس پر قائم رہے، اس معاملے میں کسی بھی عذر (excuse) کو وہ اپنے لیے عذر نہ بنائے۔

تزکیہ کے معاملے میں اصل چیز تزکیہ کا ارادہ ہے۔ یہ ارادہ اتنا زیادہ قوی ہونا چاہیے کہ کوئی بھی چیز آدمی کو اس سے ہٹا نہ سکے۔ کوئی بھی اندیشہ اس کے ارادے کو کمزور نہ کر سکے۔ اس معاملے میں وہ کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے پر راضی نہ ہو۔ اس کا یہ قول ہو کہ مجھے لازمی طور پر اپنا تزکیہ کرنا ہے، خواہ مجھے اس کی کوئی بھی عملی یا نفسیاتی قیمت دیناپڑے۔

تزکیہ کا زیادہ مؤثر طریقہ

تزکیہ کا ایک طریقہ یہ ہے کہ مجرد (abstract) طور پر اس کے کچھ اصول مقرر کر دئے جائیں اور اس کو لکھ کر لوگوں کو پڑھنے کے لیے دے دیا جائے۔ یہ بھی تزکیہ کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے، لیکن تزکیہ کا زیادہ مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اس کو کسی پیش آمدہ صورت حال سے وابستہ (relate) کر کے بتایا جائے۔ اس دوسرے طریقے کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کے لیے ایک زندہ مربی یا مزکی موجود ہو۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی خود اپنے شعور کو اتنا زیادہ ترقی یافتہ بنائے کہ وہ خود ہی ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ میں تزکیہ کا پہلو دریافت کرے اور اس کو اپنے ذہن کا جزو بنا لے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page