Al-Risala · February 2011 · page 25

تزکیہ کا زیادہ مؤثر طریقہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۵

حضرت ابوذر ایک صحابی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اگر ایک چڑیا کو ہوا میں اپنے پروں سے اڑتے ہوئے دیکھتے تو اس سے آپ ہمیں کوئی معرفت کی یاد دہانی کراتے ۔ ( وما يقلب طائر جناحه في السماء إلا ذكر لنا منه علماً . الطبقات لابن سعد ، رقم الحديث : 2354)۔ یہ پیش آمدہ صورت حال کے حوالے سے تزکیہ کی تعلیم دینے کی ایک مثال ہے۔

تزکیہ کا کوئی مجرد طریقہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی مجرد طریقہ تزکیہ کا مؤثر ذریعہ نہیں بن سکتا۔ تزکیہ کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اتنا زیادہ باشعور بنائے کہ اس کے اندر توسم (75: (15: کی صفت پیدا ہوجائے۔ وہ پیش آمدہ واقعات کو تزکیہ سے وابستہ (relate) کر کے اُس سے ربانی سبق لے سکے۔ تزکیہ کا مواد روز مرہ کے تجربات میں ہوتا ہے۔ روز مرہ کے تجربات کو تزکیہ کی نظر سے دیکھنا سیکھ لیجئے ، اس کے بعد ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ آپ کے لیے تزکیہ کا ذریعہ بن جائے گا۔ تزکیہ کا وسیلہ تزکیہ کا وسیلہ کیا ہے۔ روایتی طور پر کچھ چیزوں کو تزکیہ کا وسیلہ سمجھا جاتا ہے ـــــــــ نوافل، تلاوت، مسنون اذکار، مراقبہ، صحبت، بزرگوں کے واقعات، وغیرہ۔ اس سوچ کا مطلب تزکیہ کو ایک مقرر کورس یا مینول(manual) جیسا معاملہ سمجھنا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ کا کوئی متعین کورس نہیں۔ تزکیہ ایک زندہ واقعہ ہے، اور زندہ عمل ہی کے ذریعے اس کو حقیقی طور پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تزکیہ کے مقصد کو حاصل کرنے کا اصل ذریعہ یہ ہے کہ آدمی خدائی باتوں میں تدبر کرے ، وہ اپنی سوچ کو متحرک کرے ، وہ مسلسل غور وفکر کے ذریعے ہر ظاہر میں اس کے باطن کو دریافت کرے۔ یہی دریافت تزکیہ پسند آدمی کی غذا ہے۔ مثلاً آپ نے ایک چڑیا کو دیکھا۔ چڑیا کو دیکھ کر آپ کو یہ حدیث رسول یاد آئی کہ اہل جنت کے دل چڑیا کے مانند ہوں گے (أفئدتهم مثل أفئدة الطير)۔ اس کے بعد آپ اپنے بارے میں غور کرنے لگے کہ کیا میرا دل بھی چڑیا کے مانند ہے، کیا میں بھی اِسی طرح منفی سوچ سے خالی ہوں جس طرح چڑیا کا دل منفی سوچ سے خالی ہوتا ہے، کیا میں بھی اُسی طرح حرص سے پاک ہوں جس طرح چڑیا حرص سے پاک ہوتی، کیا میں بھی اُسی طرح بے ضرر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page