Al-Risala · February 2011 · page 28

ڈسٹریکشن سے بچئے

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۸

حقیقت یہ ہے علم آدمی کے تزکیہ کو زیادہ بڑا فریم ورک (framework) دیتا ہے۔ علم سے آدمی کو اپنے تزکیہ میں اضافے کے نئے گوشے معلوم ہوتے ہیں۔ تزکیہ کے لیے علم ایک قسم کے بوسٹر (booster) کا درجہ رکھتا ہے۔

ڈسٹریکشن سے بچئے

اس دنیا میں کامیابی کا ایک اصول یہ ہے کہ ایک کام کو کرنے کے لیے دوسرے کام کو چھوڑنا۔ یہ انسانی نفسیات کا ایک خاصہ ہے کہ آدمی ایک ہی وقت میں دو چیزوں پر یکساں فوکس (focus) نہیں کر سکتا۔ وہ ایک چیز پر فوکس کرے گا تو دوسری چیز سے اس کا ذہن ہٹ جائے گا۔ یہی اصول تزکیہ کے لیے بھی درست ہے۔ جو آدمی اپنا تزکیہ کرنا چاہتا ہو، اس کو لازمی طور پر یہ بھی کرنا ہوگا کہ وہ تزکیہ کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) چیزوں کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔

تزکیہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈسٹریکشن (distraction) ہے۔ تزکیہ کے طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ تزکیہ کو اپنا واحد نشانہ (supreme goal) بنائے، وہ ڈسٹریکشن کی تمام چیزوں سے مکمل طور پر اپنے آپ کو دور رکھے۔ تزکیہ کے لیے ذہنی یکسوئی یا ترکیز (concentration) لازمی طور پر ضروری ہے۔ جس آدمی کے اندر ترکیز کی صلاحیت نہ ہو، وہ یقینی طور پر تزکیہ کے حصول سے محروم رہے گا۔

ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور تزکیہ کی بھی ایک قیمت ہے۔ وہ قیمت ہے— ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے اپنے آپ کو دور رکھنا۔ مثلاً خاندانی رسومات، دوستی کا کلچر، کھانے اور کپڑے کا شوق، دولت اور شہرت (fame) کی رغبت، زندگی کے تکلفات، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام چیزیں تزکیہ کے طالب کے لیے ڈسٹریکشن (distraction) کا درجہ رکھتی ہیں۔ جو آدمی اپنا تزکیہ چاہتا ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اس قسم کی تمام چیزوں سے مکمل طور پر دور رہے۔

تزکیہ کسی انسان کو اعلیٰ انسان بناتا ہے۔ تزکیہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ اس کو فرشتوں کی صحبت مل جائے۔ تزکیہ کے ذریعہ آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ خدا کے پڑوس میں جینے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page