Al-Risala · February 2011 · page 27

تزکیہ، ذہنی ارتقا

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۷

نئی نئی توجیہات سمجھ میں آتی ہیں، واقعات و حقائق کے نئے نئے رخ علم میں آتے ہیں، وغیرہ۔ جس آدمی کو سچا ایمان حاصل ہو، اس کا حال یہ ہوگا کہ ہر مطالعہ اور مشاہدہ اس کے لیے ربانی دریافت کا سبب بنتا رہے گا، ہر تجربہ اس کے لیے خدا سے قربت کا ذریعہ بن جائے گا۔ اُس کا ایمان ابتداءً اگر ایک بیج تھا تو اس طرح بڑھتے بڑھتے وہ ایک پورا درخت بن جائے گا۔ اسی فکری اور روحانی عمل کا اسلامی نام تزکیہ ہے۔ ایمان اگر اسلام میں داخلے کا عنوان ہے، تو تزکیہ ایمان کے ارتقا کا عنوان۔ تزکیہ اور علم تزکیہ کے لیے ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی صاحب کمال کی صحبت حاصل کی جائے، کیوں کہ صاحب کمال کی ایک نظر انسان کو بدلنے کے لیے کافی ہوتی ہے، لیکن یہ نقطہ نظر قرآن اور حدیث سے ثابت نہیں۔ قرآن اور حدیث کے مطابق، تزکیہ کا مقصد آدمی کے خود اپنے غور وفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ آدمی کے اندر صحیح مزاج ہو اور وہ کتابوں کا، نیز فطرت کا مطالعہ کرے تو اُس سے وہ ایسے معانی اخذ کرے گا جو اس کی شخصیت کا تزکیہ کرنے والے ہوں۔

قرآن کی سورہ فاطر میں پہاڑوں کا تذکرہ کرنے کے بعد یہ آیت آئی ہے: إنما يخشى الله من عباده العلماء (28: 35)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ پہاڑوں کا علم یا واقعات فطرت کا علم آدمی کے اندر اللہ کا خوف پیدا کرتا ہے، یعنی خوف کا ماخذ علم (learning) ہے۔ آدمی کے اندر جتنا زیادہ علم ہوگا، اتنا ہی زیادہ وہ اللہ کی تخلیقی حکمتوں کو سمجھے گا اور اس طرح وہ اپنی معرفت میں اضافہ کرے گا۔ تزکیہ کسی آدمی کو ذاتی علم کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، نہ کہ مفروضہ باکمال کی نظر اور توجہ سے۔ مطالعہ آدمی کے اندر سوچنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ مطالعہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ زیادہ گہرے انداز میں چیزوں سے معرفت کی غذا لے سکے۔ مثلاً ہر آدمی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرے، لیکن جو شخص نظام تنفس (respiratory system) کے بارے میں دریافت کردہ جدید معلومات کو جانتا ہو، اس کا شکر ہزاروں گنا زیادہ بڑھ جائے گا، اور اسی کے اعتبار سے اس کا تزکیہ بھی بہت زیادہ ترقی کرے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page