Al-Risala · February 2011 · page 31

اعترافِ حقیقت

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۳۱

کلام کو سنے اور اس کو سمجھے۔ وہ پیشگی طور پر قائم کردہ معیار سے آزاد ہو، وہ یہ صلاحیت رکھتا ہو کہ وہ کلام کی نسبت سے اپنی رائے قائم کرے، نہ کہ متکلم کی نسبت سے۔ جس آدمی کی اندر یہ صفات موجود ہوں، وہی وہ شخص ہے جو تزکیہ کے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

اعترافِ حقیقت

اعلیٰ انسانیت یہ ہے کہ آدمی حقیقتِ واقعہ کا اعتراف کرے۔ کسی انسان کے لیے اصل چیز یہی ہے۔ انکشافِ حقیقت (discovery of reality) کا نتیجہ اعتراف (acknowledgement) ہے۔ آدمی اگر حقیقتِ واقعہ سے بے خبر ہو تو وہ ایک جاہل (ignorant) انسان شمار ہوگا۔ حقیقتِ واقعہ کے دریافت کے بعد اگر کسی شخص کا حال یہ ہو کہ وہ اس کو دل کے اندر تو محسوس کرے، لیکن زبان سے بول کر وہ اس کا اعلان نہ کرے تو یہ روش منافقت کی روش ہے۔ اور اگر ایسا ہو کہ حقیقتِ واقعہ کی دریافت کے بعد وہ اس کو اصل ہستی کے بجائے کسی اور سے منسوب کردے، یا وہ خود اس کا کریڈٹ لینے لگے تو ایسا آدمی جھوٹ (falsehood) پر کھڑا ہوا ہے۔

یہ عمل کوئی سادہ عمل نہیں۔ یہ دراصل صحیح رخ پر انسانی شخصیت کا ارتقا ہے اور اسی کا دوسرا نام تزکیہ ہے۔ تزکیہ کسی پر اسرار چیز کا نام نہیں ہے۔ تزکیہ اس شعوری بیداری کا نتیجہ ہے کہ آدمی ہر چیز کو خدا کے خانے میں ڈال سکے، ہر تجربہ اس کے لیے خدا سے تعلق بڑھانے کا ذریعہ بن جائے۔ اِنہیں تجربات کے دوران وہ اعلیٰ شخصیت بنتی ہے جس کو مزکی شخصیت(purified personality) کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا معاملہ صحیح انتساب (right attribution) اور غلط انتساب (wrong attribution) کا معاملہ ہے۔ واقعات کو غلط طور پر کسی سے منسوب کرنا، اپنی روح کو آلودہ کرنا ہے، یہ تزکیہ کے موقع پر اپنے آپ کو تزکیہ سے محروم کر لینا ہے۔ اس کے برعکس، جب آدمی واقعات کو خالقِ حقیقی کی طرف منسوب کرے تو اُس نے اپنی روح کو اوپراٹھایا۔ تزکیہ کے موقع کو استعمال کرتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو وہ انسان بنایا جس کو تزکیہ یافتہ انسان کہا جاتا ہے۔ تزکیہ کسی خلا میں نہیں ہوتا، تزکیہ ہمیشہ حقیقی زندگی میں ہوتا ہے۔ تزکیہ کے لیے جو

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page