تزکیہ اور قربانی
الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۳۲
چیز مطلوب ہے، وہ بیدار ذہن (awakened mind) ہے، نہ کہ تخلیہ میں کئے ہوئے کسی قسم کے پُراسرار اعمال۔
تزکیہ اور قربانی
تزکیہ کا حصول کوئی سادہ بات نہیں۔ تزکیہ کے حصول کے لیے ہمیشہ ایک قربانی درکار ہوتی ہے، جسمانی قربانی نہیں، بلکہ نفسیاتی قربانی۔ وہ قربانی ہے۔ تزکیہ کے حصول کی خاطر خلاف تزکیہ باتوں کو مکمل طور پر چھوڑ دینا۔ یہ فطرت کا ایک اصول ہے کہ ایک چیز کو پانے کے لیے دوسری چیز کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہ اصول تزکیہ کے معاملے میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ دوسرے معاملات میں۔ انھیں میں سے ایک چیز ہے غلط عادتوں (bad habits) کو چھوڑنا۔ ہر عورت اور مرد اپنے ماحول کے اثر سے ایسی چیز کے عادی ہو جاتے ہیں جو تزکیہ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ تزکیہ کے طالب کے لیے لازم ہے کہ وہ ایسی عادتوں کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔ مثلاً زیادہ بولنا اور کم سوچنا، خاندانی تقاضوں میں مشغول رہنا، کھانے اور کپڑے کا شوقین ہونا، تفریحی مجلسوں میں بیٹھنا، دوسروں کی کمیوں کا چرچا کرنا، شاپنگ اور آؤٹنگ، کفایت شعاری کے بجائے فضول خرچی، سطحی اور نمائشی ذوق، تنقید کو برا ماننا اور تعریف پر خوش ہونا، دنیوی چیزوں کا حریص ہونا، ضرور پر قناعت نہ کرنا، سادگی (simplicity) کے بجائے تکلف کو پسند کرنا، وغیرہ۔
ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور تزکیہ کو پانے کی بھی ایک قیمت ہے، اور وہ قیمت ہے۔ خلاف تزکیہ باتوں کو چھوڑنا۔ جو آدمی تزکیہ کی باتیں کرے، لیکن وہ خلاف تزکیہ باتوں کو چھوڑنے پر راضی نہ ہو، ایسا آدمی بلاشبہ ایک غیر سنجیدہ انسان ہے، اور غیر سنجیدہ مزاج کے ساتھ کبھی تزکیہ جمع نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی تزکیہ کی طلب میں سنجیدہ ہو، وہ خود ہی یہ جان لے گا کہ کیا چیزیں تزکیہ کے موافق ہیں اور کیا چیزیں تزکیہ کے خلاف۔ اس کی سنجیدگی لازمی طور پر اس کو مجبور کرے گی کہ وہ موافق تزکیہ باتوں کو اپنائے اور خلاف تزکیہ باتوں کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔ سنجیدگی اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی ضرورت تزکیہ کے درجے تک پہنچ جائے، وہ ہرگز تزکیہ سے محروم نہ رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues