Al-Risala · February 2011 · page 37

تزکیہ اور ترک دنیا

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۳۷

ہیں۔ اس کو دو میں سے ایک کا فیصلہ لینا ہوتا ہے۔ طالب اگر اس طرح کے مواقع پر خدا سے دعا کرے تو عین ممکن ہے کہ خدا اس کی دعا کو قبول کرتے ہوئے اُس کو ایک ایسا خواب دکھادے جس میں اس کے لیے رہنمائی موجود ہو، جو اس کو شبہہ اور تردد سے نکال کر یقین کی طرف لے جانے والا ہو۔ اس قسم کا خواب بلاشبہ خدا کی ایک خصوصی رحمت ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص خواب دیکھنے کے باوجود اس سے رہنمائی حاصل نہ کرے تو اس کا معاملہ اُس طالب علم جیسا ہو جائے گا جس کا پر چہ آؤٹ کر دیا جائے، اس کے باوجود وہ امتحان میں ناکام رہے۔

تزکیہ پچاس فی صد بندے کا معاملہ ہے اور پچاس فی صد خدا کا معاملہ۔ تزکیہ کے طالب کو چاہیے کہ وہ مسلسل خدا سے دعا کرے۔ یہ دعا اس کے لیے خدا سے جوڑنے کا ذریعہ بنے گی۔ وہ اپنے معاملات میں خدا سے استخارہ کرے۔ استخارہ گویا کہ اپنے معاملات میں خدا کے ساتھ کا ونسلنگ (counselling) کرنا ہے، اور خدا کے ساتھ کا ونسلنگ کرنے والا کبھی بے راہ نہیں ہوتا۔ خدا اگر اس کو اس کے معاملے میں کوئی خواب دکھادے تو اس کو سمجھنا چاہیے کہ خدا نے اس کے پرچے کو اس کے لیے آؤٹ کر دیا ہے، اب اس کے لیے کوئی دوسرا چوائس باقی نہیں رہا ہے۔ جس شخص کو خدا اس حد تک رہنمائی دے دے، اور پھر بھی وہ اس رہنمائی کو قبول نہ کرے تو یہ اس کے لیے اتنا بڑا جرم ہوگا جو کسی بھی حال میں قابل معافی نہیں۔ خدا ایسے انسان سے کوئی عذر (excuse) قبول نہیں کرے گا، وہ اس کو ہمیشہ کے لیے اپنی قربت سے محروم کر دے گا۔

تزکیہ اور ترک دنیا

بعد کے زمانہ میں کچھ لوگوں نے تزکیہ کے لیے ترک دنیا کا طریقہ اختیار کیا۔ لیکن تزکیہ کے لیے نفسیاتی معنوں میں دنیا سے بے رغبتی مطلوب ہے، نہ کہ عملی معنوں میں دنیا کو چھوڑ دینا۔ دنیا کو چھوڑنے کا نظریہ دراصل غیر داعیانہ ذہن کی پیداوار ہے۔ دنیا میں لازمی طور پر انسان بھی شامل ہیں۔ اس لیے دنیا کو چھوڑنے کا مطلب انسان کو چھوڑنا بھی بن جاتا ہے۔ داعی اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ کسی بھی عذر کی بنا پر انسان کو چھوڑ دے۔ دوسرے لوگ انسان کو کسی اور نظر سے دیکھ سکتے ہیں، لیکن داعی انسان کو مدعو کی نظر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page