Al-Risala · February 2011 · page 38

تزکیہ کا متحرک

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۳۸

سے دیکھتا ہے۔ داعی کی نظر میں ہر انسان مدعو ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ عام ہو یا خاص، خواہ وہ حاکم ہو یا غیر حاکم، حتی کہ بظاہر وہ مخالف اور ظالم کیوں نہ ہو، داعی کی نظر میں ہر ایک صرف انسان ہے۔ داعی کی اولین خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر انسان تک سچائی کا پیغام پہنچائے۔ داعی اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ یہ کہے کہ فلاں شخص ایک دروازے سے آئے گا تو میں دوسرے دروازے سے نکل جاؤں گا۔ وہ یہ کہے گا کہ آنے والا شخص میرے لیے مدعو ہے، اس لیے میں آگے بڑھ کر اس سے ملوں گا اور حکمت کے ساتھ سچائی کا پیغام اس کو پہنچاؤں گا۔ ترکِ دنیا عملاً ترکِ مدعو ہے۔ ترکِ دنیا عملاً ان لوگوں سے دور جانا ہے جو ایک داعی کے لیے مطلوب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک تاجر ہر چیز کو چھوڑ سکتا ہے، لیکن وہ اپنے گاہک (customer) کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اس طرح ایک داعی ہر دوسری چیز کو برداشت کر سکتا ہے، لیکن وہ اس کو برداشت نہیں کر سکتا کہ وہ مدعو کو چھوڑ کر کسی الگ تھلگ مقام پر چلا جائے۔ مدعو کے درمیان رہتے ہوئے اگر اس کو کوئی مصیبت پیش آتی ہے، اگر اس کے دامن پر کیچڑ کے دھبے لگ جاتے ہیں، تب بھی وہ کیچڑ کو نظر انداز کرے گا، لیکن وہ مدعو سے بے تعلقی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک مومن کا مطلوب جس طرح تزکیہ ہے، اسی طرح اس کا مطلوب دعوت بھی ہے، اور ایک سچے مومن کے لیے ممکن نہیں کہ وہ تزکیہ کو چھوڑ دے یا وہ دعوت سے دست بردار ہو جائے۔

تزکیہ کا متحرک

اگر یہ کہا جائے کہ اسلام کا نشانہ (goal) صالح نظام قائم کرنا ہے۔ اس صالح نظام کے لیے صالح افراد درکار ہیں۔ تزکیہ کا مقصد یہ ہے کہ ایسے صالح افراد تیار کئے جائیں جو صالح نظام بنا سکیں۔ یہ بات کہنے میں بظاہر بے ضرر معلوم ہوتی ہے، لیکن وہ تزکیہ کے پراسس کے لیے بلاشبہ قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس قسم کے تصورِ اسلام کے تحت کبھی تزکیہ کا عمل موثر طور پر جاری نہیں ہو سکتا۔ اس امتحان کی دنیا میں انسان کو ایسے حالات کے درمیان رہنا پڑتا ہے جہاں ہر طرف تزکیہ کے خلاف اسباب موجود ہیں۔ ایسی حالت میں تزکیہ کا عمل جاری کرنے کے لیے نہایت طاقت

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page