Al-Risala · February 2011 · page 39

تزکیہ کا متحرک

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۳۹

و محرک(strong incentive) درکار ہے۔ اور طاقت و محرک وہی ہو سکتا ہے جس میں سارا فوکس اپنی ذات پر ہو، نہ کہ کسی خارجی نظام پر۔

حقیقی تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی یہ محسوس کرے کہ تزکیہ کے بغیر وہ ہرگز کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ تزکیہ نہ کرنے کی صورت میں اس کے لیے ابدی محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس قسم کے طاقت و محرک کے بغیر کبھی کوئی شخص تزکیہ پر کار بند نہیں ہو سکتا۔ حقیقی تزکیہ کے لیے شدید محاسبہ درکار ہوتا ہے اور شدید محاسبہ کبھی کسی خارجی نظام کی نسبت سے پیدا نہیں ہو سکتا۔ اگر میں نے اپنا تزکیہ نہ کیا تو میں ہلاک ہو جاؤں گا— اس قسم کا گہرا محرک کسی شخص کے اندر صرف اُسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب کہ تزکیہ اس کے لیے ایک انتہائی ذاتی مسئلہ ہو، نہ کہ کوئی خارجی مصلحت یا دُور کی کوئی ضرورت۔ نظام ایک خارجی چیز ہے جس کا تعلق پورے معاشرے سے ہوتا ہے۔ اس قسم کا حوالہ کسی آدمی کے اندر طاقت و محرک بن کر داخل نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ہمیشہ اپنی ذات کے حوالے سے کسی کی زندگی میں شامل ہوتا ہے، نہ کہ کسی خارجی نظام کے حوالے سے۔ تزکیہ تیاری کا عمل موجودہ مادی دنیا میں ہر آدمی کو روزگار کی ضرورت ہوتی ہے جس کو جاب(job) کہا جاتا ہے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کو ایک اچھا جاب ملے ۔ اس کے لیے ہر آدمی اپنے آپ کو جاب مارکیٹ کے تقاضے کے مطابق، ایک تیار انسان(professionally prepared person) بناتا ہے۔ جو آدمی اس اعتبار سے اپنے آپ کو تیار نہ کر سکے، وہ ساری عمر کے لیے ایک نا کام انسان بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی معاملہ شدید تر انداز میں آخرت کی دنیا کا ہے۔ آخرت کی دنیا نہایت اعلیٰ قسم کی ربانی سرگرمیوں کی دنیا ہے۔ آخرت کی دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوگا جو موجودہ دنیا میں اس کے مطابق تیاری کرے، جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو روحانی اعتبار سے ایک تیار انسان(spiritually prepared person) بنائے ۔ جو آدمی موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو اس پہلو سے تیار نہ کر سکے، وہ آخرت میں ایک نا کام انسان بن کر رہ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page