تزکیہ ذریعہ قربت
الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۴۱
احساس خطا کو بیدار کریں۔ کسی معاملے میں اگر آپ محسوس کریں کہ آپ 99 فی صد درست تھے، صرف یک فی صد آپ غلط تھے، تو ایسے موقع پر آپ یہ کریں کہ 99 فی صد کو بھلا دیں اور ایک فی صد کو اتنا زیادہ بڑھائیں کہ آپ کو محسوس ہو کہ گویا ساری غلطی آپ ہی کی تھی۔ اس طرح آپ کے اندر احساس خطا جاگے گا۔ آپ خوف خدا سے کانپ اٹھیں گے، آپ شدتِ انابت کے ساتھ اللہ سے توبہ کی درخواست کرنے لگیں گے۔
تزکیہ کوئی پراسرار چیز نہیں، تزکیہ کا ایک معلوم پراسس ہے، اور وہ ہے بار بار تزکیہ سے تعلق رکھنے والے پہلوؤں پر سوچنا۔ تزکیہ ہمیشہ شعوری بیداری کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی پراسرار کرشمہ کا نتیجہ۔ کوئی شخص جتنا زیادہ اس معاملے میں سوچے گا، اتنا ہی زیادہ اس کا تزکیہ ہوگا۔ تزکیہ پورے معنوں میں ایک شعوری عمل ہے۔ اس شعوری عمل کے بغیر تزکیہ کو پانے کی امید رکھنا صرف ایک خوش خیالی (wishful thinking) ہے جو کبھی واقعہ بننے والی نہیں۔
تزکیہ ذریعہ قربت
انسان مخلوق ہے اور خدا اس کا خالق ہے۔ اس لحاظ سے انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق سے آخری حد تک قریب ہو، مگر مختلف چیزیں انسان کو خدا سے دور کر دیتی ہیں۔ مثلاً فخر، منفی سوچ، وغیرہ۔ تزکیہ کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو اس قسم کے منفی جذبات سے مکمل طور پر پاک کیا جائے۔ آدمی جیسے ہی اپنے آپ کو اس قسم کے غیر ربانی جذبات سے پاک کرتا ہے، اچانک وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے خالق سے آخری حد تک قریب ہو گیا ہے۔ وہ اپنے آس پاس خدا کی موجودگی (presence of God) کا تجربہ کرنے لگتا ہے۔
خدا سے گہری قربت صرف اُس وقت ہو سکتی ہے جب کہ انسان خدا کو اس کے اعلیٰ ترین اوصاف کے ساتھ دریافت کرے۔ مثلاً ہر انسان دنیا میں رہنے کے لیے بے شمار چیزوں کا محتاج ہے۔ یہ چیزیں اس نے خود نہیں پیدا کی ہیں، اس کا ایک دینے والا ہے اور وہ دینے والا بلا شبہ خدا ہے۔ خدا ہی وہ ہستی ہے جو اس کا واحد منعم اور معطی (giver) ہے۔ یہ بلا شبہ خدا کے ایک طرفہ انعامات ہیں جن
‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues