تزکیہ ذریعہ قربت
الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۴۲
کی بنا پر وہ اس دنیا میں زندہ اور قائم ہے۔ ایک لمحہ کے لیے اگر اس یک طرفہ عطیہ کا سلسلہ ٹوٹ جائے تو انسان اپنے وجود کو باقی نہیں رکھ سکتا۔
جب ایک انسان اس طرح خدا کو اپنے منعم کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اس کے فطری نتیجہ کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کی روح کے اندر خدا سے محبت کا چشمہ جاری ہو جاتا ہے۔ وہ اُس حقیقت کی تصویر بن جاتا ہے جس کو قرآن میں: والذین آمنوا أشد حبًّا لله (165: 2) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں سجدہ قربت (96: 19) کا ذکر ہے۔ یہ سجدہ قربت کیا ہے۔ یہ سجدہ قربت دراصل اُس انسان کا سجدہ ہے جو اپنے رب کے لیے محبت اور خشیت سے سرشار ہو اور اس سرشاری کے تحت وہ اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر پڑے۔ اس قسم کا سجدہ ایک مومن کے لیے گویا کہ تزکیہ کی معراج ہے۔ تزکیہ اور موت کی یاد تزکیہ کے عمل کے لیے موت کی یاد بہت طاقت ور ذریعہ ہے۔ موت کی یاد تزکیہ کو فی الفور کرنے کے ایک کام کی حیثیت دے دیتی ہے۔ موت کی یاد آدمی کے اندر اس پہلو سے ایک سینس آف ارجنسی (sense of urgency) پیدا کرتی ہے۔ موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ تزکیہ کے عمل میں تاخیر کا تم تحمل نہیں کر سکتے، تزکیہ کا کام آج کر ڈالو، کیوں کہ کل کے بارے میں نہیں معلوم کہ وہ تمھارے لیے موت کا دن ہوگا یا زندگی کا دن۔
موت کا تصور آدمی کو یاد دلاتا ہے کہ تم پر کسی بھی لمحہ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ تم مر جاؤ گے۔ اس کے بعد تم کو اُس سنگین صورت حال کا سامنا پیش آنے والا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: یوم يقوم الناس لرب العالمين (6: 83) یعنی مالک کائنات کے سامنے انسان کا کھڑا کیا جانا۔ یہ وہ دن ہوگا جب کہ فرشتے انسان کو لے جا کر خدا کے سامنے پیش کر دیں گے۔ خدا جو ہر کھلے اور چھپے کو جانتا ہے، وہ انسان سے اُس کے قول و عمل کا حساب لے گا۔ ایک حدیث کے مطابق، انسان کے قدم اُس وقت تک اللہ کے سامنے سے نہیں ہٹیں گے جب تک وہ اللہ کے سوالات کا جواب نہ دے (لا تزول قدما عبد يوم القيامة حتى يُسأل عن أربع)۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues