Al-Risala · February 2011 · page 45

تزکیہ کا معیار

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۴۵

(39: 75) ۔ یہ دوسری آیت دریافت معرفت کے اگلے مرحلے کو بتاتی ہے جو آخرت کے زیادہ بہتر ماحول میں ابد تک جاری رہے گا۔

ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری) اس حدیث میں جس دینی تائید کا ذکر ہے، اس کا سب سے بڑا مصداق غالباً انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے سائنس دانوں کا عمل ہے۔ انھوں نے معرفت کے حصول کے لیے ایک سائنٹفک فریم ورک دیا۔ آخرت میں اس سفر معرفت کو جاری رکھنے کے لیے اہل ایمان کو زیادہ اعلیٰ درجے کے مؤدین حاصل ہوں گے۔ یہ ملائکہ ہوں گے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: نحن أولياؤكم في الحياة الدنيا وفي الآخرة (31: 41)۔

تزکیہ کا معیار

تزکیہ کا معیار (criterion) کیا ہے۔ تزکیہ کا معیار یہ ہے کہ آدمی کو اسلامی طرزِ فکر اور اسلامی طرزِ عمل سے اتنی زیادہ مناسبت پیدا ہو جائے کہ وہ اس کو اپنے دل کی آواز محسوس کرنے لگے۔ وہ کسی گرانی کے بغیر اس کو فوراً قبول کرلے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ تزکیہ کا اصل مقصد تعلق بالله بتایا گیا ہے۔ یہ بالکل درست ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ تزکیہ کی پہچان یہ ہے کہ بندے کا سول کنسرن (sole concern) صرف ایک ہستی بن جائے، اور وہ خدا کی ہستی ہے۔ اسی کا اصطلاحی نام توحید ہے، یعنی شرک سے مکمل طور پر پاک ہونا اور اللہ کو مکمل طور پر اپنا مرکزِ توجہ بنا لینا۔

خدا کو اپنا سول کنسرن بنانا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ آدمی کی ذات میں کامل انقلاب کے ہم معنی ہے۔ ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ پورے معنوں میں خدا کو، دینے والا (giver) سمجھنے لگتا ہے، اور اپنے آپ کو پورے معنوں میں پانے والا (taker)۔ اس کی سوچ خدارخی سوچ بن جاتی ہے۔ اس کے جذبات کا مرکز خدا بن جاتا ہے، اس کی بات اور اس کے کردار میں خدا کا رنگ دکھائی دینے لگتا ہے، اس کے اندر کامل معنوں میں تواضع (modesty) پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ ایک کٹ ٹو سائز

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page