Al-Risala · February 2011 · page 44

تزکیہ کا مقصد

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۴۴

موجودہ دنیا میں انسان کا ایک کام یہ تھا کہ وہ ایک تہذیب (civilization) کو وجود میں لائے۔ انسان نے بڑے پیمانے پر یہ کام انجام دیا، حجری دور (stone age) سے آغاز کر کے اُس نے اس کو الیکٹرانک دور (electronic age) تک پہنچا دیا۔ یہ کام فطرت کے قوانین کو دریافت کرنے کے ذریعہ انجام پایا، لیکن عملاً یہ ہوا کہ انسان نے ایک صحیح کام میں غلط کام کو ملا دیا۔ فطرت کی طاقتوں پر قابو پانے کے بعد وہ سرکش بن گیا، اس نے استبدادی نظام (despotic system) قائم کیا، اس نے آزادی کے نام پر انارکی (anarchy) پھیلائی، اس نے فیشن کے نام پر عریانیت (nudity) کو رواج دیا، وغیرہ۔ اس لیے قیامت میں یہ ہوگا کہ صالح لوگوں کو منتخب کر کے ان کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ ربانی تہذیب کو زیادہ بہتر طور پر قائم کریں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: أن الأرض يرثها عبادي الصالحون (105: 22)

حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی معرفت کا ایک سفر ہے۔ یہ سفر دنیا سے لے کر آخرت تک چلا جا رہا ہے۔ دنیا میں معرفت کا سفر محدود طور پر انجام پاتا ہے، آخرت میں معرفت کا سفر لامحدود طور پر جاری رہے گا۔ اس سفر کو کامیابی کے ساتھ وہی شخص طے کر سکتا ہے جو اپنا تزکیہ کر کے اپنے آپ کو اس کا اہل بنائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے کلمات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر دنیا کے تمام سمندروں کو اور ان کے برابر مزید سمندروں کو سیاہی (ink) بنا دیا جائے اور دنیا کے تمام درختوں کو قلم بنا دیا جائے اور پھر اللہ کے کلمات کو لکھنا شروع کیا جائے تو تمام سمندروں کی سیاہی ختم ہو جائے گی، مگر اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے (27:31)۔

یہ بات جو قرآن میں کہی گئی ہے، وہ خبر نہیں ہے بلکہ وہ انشاء ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے ان کلمات کو دریافت کریں اور اس طرح وہ اپنی معرفت کو مسلسل بڑھاتے رہیں۔ قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد لله رب العالمين (1:1) یہ آیت بھی خبر نہیں ہے، بلکہ وہ انشاء ہے۔ یہ آیت دریافتِ معرفت کے دنیوی آغاز کو بتاتی ہے۔ دوسری جگہ قرآن میں آخرت کے حوالے سے یہی آیت اس طرح آئی ہے: وقيل الحمد لله رب العالمين

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page