Al-Risala · March 2012 · page

Political statusquoism, Dawah activism

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

(human-friendly culture) کو اختیار کرلیں، ایسا کرنا اپنی خواہش پر چلنے کے بجائے، خدا کی صراط مستقیم پر چلنا ہوگا، اور جولوگ اپنی خواہش کا اتباع چھوڑ دیں اور وہ خدا کی صراط مستقیم کے پیرو بن جائیں، وہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دنیا کی سعادت بھی مقدر ہے اور آخرت کی سعادت بھی۔ سنت رسول کے خلاف 1947 کے بعد کشمیر میں پرشور کشمیری جدوجہد شروع ہوئی۔ ابتداً وہ جلسہ جلوس اور پرامن مظاہرہ کی شکل میں تھی، مگر ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس کے بعد کشمیریوں میں تشدد کا مزاج پیدا ہوگیا۔ اکتوبر 1989 میں کشمیریوں نے پرامن طریق کار کو چھوڑ کر مسلح طریق کار کا راستہ اختیار کر لیا۔ اب ہر طرف گن کلچر اور بم کلچر نظر آنے لگا۔

کشمیری تحریک کے اس نئے موڑ سے صرف چند ماہ پہلے میں سری نگر گیا تھا۔ وہاں 29 جون 1989 کوسری نگر کے ٹیگور ہال میں میری ایک تقریر ہوئی۔ اس تقریر کا آڈیو کیسٹ اب بھی موجود ہے۔ اس تقریر میں، میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ بیان کیا تھا۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک عرب بدو مدینہ آیا۔ وہاں اس نے مسجد نبوی کو گندا کر دیا۔ صحابہ نے اس کو پکڑ کر اس کی سرزنش کرنا چاہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس سے منع کر دیا۔ آپ نے کہا کہ جہاں اس نے گندا کیا ہے، وہاں تم پانی بہا کر اس کو صاف کر دو (صحیح البخاري، رقم الحديث: 5679)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سلوک کا عرب بدو پر بہت زیادہ اثر ہوا۔ اس کے بعد اس نے اپنے قبیلے میں جا کر لوگوں کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا تو اس کا قبیلہ اتنا متاثر ہوا کہ جلد ہی پورا قبیلہ اسلام کے دائرے میں داخل ہو گیا۔ اس واقعے کو بیان کرنے کے بعد میں نے کہا کہ یہ پیغمبر اسلام کا طریقہ ہے۔ پیغمبر اسلام نے اپنا مقصد پانی بہا کر حاصل کیا تھا، آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنا مقصد خون بہا کر حاصل کریں ۔ ایسا ہونا خدا کی اس دنیا میں کبھی ممکن نہیں۔

بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ 29 جون 1989 کو اللہ کی توفیق سے جو الفاظ میں نے کہے تھے، وہ کشمیر میں ایک واقعہ بن گئے۔ کشمیریوں کی مسلح جدوجہد سے صرف اُن کے نقصان میں اضافہ ہوا،

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page