Political statusquoism, Dawah activism
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
اس سے ان کو کوئی مثبت فائدہ حاصل نہ ہوسکو۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کے مسلمان یوٹرن (U-turn) لیں، وہ پرتشدد قومی جدوجہد کے بجائے پرامن دعوتی جدوجہد کو اپنا نشانہ بنائیں۔ تاریخ کو انتظار ہے قرآن کی سورہ یونس میں یہ آیت آئی ہے: والله يدعوا إلى دار السلام (10:25) یعنی اللہ بلاتا ہے امن کے گھر کی طرف (And God calls to the home of peace.) اسی طرح، قرآن کی سورہ آل عمران میں یہ آیت آئی ہے: أفغير دين الله يبغون، وله أسلم من في السماوات والأرض طوعاً وكرهاً، وإليه يُرجعون (3:83) یعنی کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالاں کہ اللہ کے دین کے تابع ہے، وہ سب کچھ جو زمین اور آسمان میں ہے، اور سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا مطلوب دین امن کا دین ہے۔ ستاروں اور سیاروں کی دنیا میں کامل امن قائم ہے۔ اسی طرح، نباتات اور حیوانات کی دنیا میں بھی امن کا کلچر موجود ہے۔ یہی امن کا کلچر انسان سے بھی مطلوب ہے۔ اسلام کا مدعا یہ ہے کہ لوگ اس امن کلچر پر قائم ہوں، کیوں کہ تمام مثبت سرگرمیاں اُسی سماج میں کامیابی کے ساتھ جاری ہوتی ہیں جہاں امن کا ماحول قائم ہو۔ موجودہ زمانے میں ایک طرف، عالمی میڈیا کا دور آیا۔ دوسری طرف یہ ہوا کہ عین اِسی زمانے میں ساری دنیا کے مسلمان جہاد کے نام پر مسلح جدوجہد (armed struggle) میں مشغول ہوگئے ۔ اِن سرگرمیوں کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ ساری دنیا میں اسلام، تشدد کا مذہب (violent religion) سمجھا جانے لگا۔
یہ بے حد سنگین صورتِ حال ہے۔ اِس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اسلام کی اِس منفی تصویر (negative image) کو بدلا جائے۔ عالمی میڈیا کا امیج بلڈنگ (image building) کا ذریعہ بنایا جائے، یعنی اسلام کو اِس حیثیت سے نمایاں کیا جائے کہ وہ لوگوں کو مذہب تشدد (religion of violence) کے بجائے، مذہب امن (religion of peace) نظر آنے لگے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues