امن کی طاقت زیادہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
آج کل ہر ملک کے مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ انھوں نے جمعہ کے دن کو نفرت اور تشدد کی باتوں کا دن بنالیا ہے۔ اُن کا تقریباً ہر رہنما جمعہ کے اجتماع کو اپنے سیاسی مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہ بہت خطرناک علامت ہے۔ یہ خدا کے دین کو اپنے قومی اور سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ یہ عین وہی چیز ہے جس میں یہود اپنے دورِ زوال میں مبتلا ہوئے۔ قرآن کے مطابق، یہ روش یہود کے لیے خدا کے غضب کا سبب بنی۔ اگر مسلمان اِس روش کو اختیار کریں تو وہ یقینی طور پر اِس کے شدید انجام سے بچ نہیں سکتے۔ اِس معاملے میں کسی بھی قوم کا کوئی استثنا نہیں۔ عمر ضائع ہوگئی کشمیر کے ایک مشہور عالم کا واقعہ ہے۔ ان کو’’مفکر کشمیر‘‘ کہا جاتا تھا۔ وہ کشمیر کی سیاسی تحریک میں ایک رہنما کی حیثیت سے شامل تھے۔ 13 دسمبر 1990 کو کشمیر میں ان کو کچھ مسلم نوجوانوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 87 سال تھی۔
28 نومبر 2011 کی ایک ملاقات میں کشمیر کے ایک مسلمان نے مجھ کو بتایا کہ مذکورہ عالم کی وفات سے کچھ پہلے انھوں نے راقم الحروف کی کتاب ’’الاسلام‘‘ اُن کو پڑھنے کے لیے دی تھی۔ بعد کی ایک ملاقات میں مذکورہ عالم نے کہا کہ مجھے اِس کتاب سے پورا اتفاق ہے۔ اِس کتاب کو پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ میں نے اپنی ساری عمر ضائع کردی۔ کاش، یہ کتاب مجھے پہلے مل گئی ہوتی۔ مذکورہ عالم کا یہ قول اہل کشمیر کے لیے اُن کی طرف ’’کلمٔہ باقیہ‘‘ (آخری نصیحت) کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذکورہ عالم کی زندگی میں اہل کشمیر نے اُن کے سیاسی مشورے کو اختیار کیا تھا۔ اب اہل کشمیر کو چاہیے کہ وہ اِسی طرح ان کے اسلامی مشورے کو اختیار کرلیں، یعنی اہل کشمیر تشدد کا طریقہ چھوڑ کر امن کا طریقہ اختیار کر لیں ۔ وہ سیاست کے طریقے کو چھوڑ کر پر امن دعوت کا طریقہ اختیار کر لیں ۔ ایک فارسی شاعر کی زبان سے مذکورہ عالم کی روح اہل کشمیر سے کہہ رہی ہے کہ۔ میں سیاست سے پر ہیز نہ کر سکا، تم لوگ سیاست سے پر ہیز کرو :
من نہ کردم، شما حذر به کنید!
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues