امن کی طاقت زیادہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
حاصل کریں تو آپ کبھی اس میں کامیاب نہ ہوسکیں گے، یہ خدا کا قانون ہے اور خدا کے قانون میں کبھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی (43: 35)۔
پھر میں نے کہا کہ اس دنیا میں خدا کا قانون عدم ٹکراؤ کے اصول پر قائم ہے۔ خلا کے تمام ستارے اور سیارے ایک دوسرے سے ٹکرائے بغیر اپنا سفر طے کرتے ہیں۔ اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ کوئی تعمیری مقصد صرف پرامن طریقہ کار کے ذریعے حاصل ہو، اس دنیا میں پرتشدد طریقہ کار کے ذریعے کوئی بھی مفید نتیجہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے کہا کہ اہل کشمیر نے 1947 کے بعد اپنے مقصد کے حصول کے لیے جو طریقہ اختیار کیا، وہ نفرت اور تشدد کا طریقہ تھا۔ ایسا طریقہ خدا کی اس دنیا میں مکمل طور پر ایک غیر فطری طریقہ ہے۔ ایسے کسی طریقے کے لیے پیشگی طور پر فطرت کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہ ہو۔ جمعہ کا دن، فساد کا دن ایک کشمیری مسلمان سے ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ میں نے قرآن کو پڑھا ہے۔ قرآن کی سورہ الجمعہ میں بتایا گیا ہے کہ : اے مسلمانو، جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور تم اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تا کہ تم کامیاب ہو: When the prayer is ended, then disperse in the land and seek of God's grace, and remember God much, that you may be successful. (62: 10)
قرآن کی اس آیت کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ ہندو نے کہا کہ آپ کے قرآن میں یہ لکھا ہوا ہے کہ آپ جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلیں تو آپ، لوگوں کو خدا کی رحمت بانٹیں، اور آپ لوگوں کا حال یہ ہے کہ آپ جمعہ کی نماز پڑھ کر نکلتے ہیں تو آپ نعرہ اور جلوس کی سیاست چلاتے ہیں، نفرت کی باتیں کرتے ہیں اور لوگوں کے اوپر پتھر پھینکتے ہیں۔ ایسا کر کے آپ لوگ خود اپنے دین کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
یہ تبصرہ صرف کشمیر کے مسلمانوں پر نہیں، بلکہ وہ ساری دنیا کے مسلمانوں پر صادق آتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues