ناشکری کا کلچر
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
مگر اس دعا کے لیے موافق ماحول ضروری ہے۔ نفرت اور تشدد کے ماحول میں کسی کے اندر یہ ربانی دعا بل نہیں سکتی۔ کشمیر میں نفرت اور تشدد کا کلچر چلانے کا مطلب یہ ہے کہ اہل کشمیر کو ایک عظیم نعمت سے محروم کر دیا جائے۔ نفرت اور تشدد کے ماحول میں لوگوں کی زبان سے صرف بد دعا نکلے گی، نہ کہ کوئی ربانی دعا۔ ایسے ماحول میں لوگوں کا دماغ منفی افکار کا جنگل بن جائے گا، جب کہ مذکورہ قسم کی اعلیٰ ربانی دعا کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کا دماغ مثبت افکار کا باغ بنا ہوا ہو۔ قرآن کے مطابق، جنت کامل معنوں میں ایک امن کی جگہ ہے (25 : 10)۔ جنت گویا امن کلچر کا چمنستان ہے۔ ایسی جنت میں تشدد پسند لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تشدد اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک نفسیاتی آگ ہے۔ جو لوگ دنیا کی زندگی میں آگ والی نفسیات کے ساتھ جئیں، اُن کے لیے شدید اندیشہ ہے کہ وہ آخرت میں بھی آگ کی دنیا میں ڈال دئے جائیں۔ قرآن کے مطابق، جنت کے باشندے کامل طور پر امن پسند ہوں گے (66 : 36)۔ وہاں ہر انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے صرف امن اور محبت کے جذبات ہوں گے۔ ایسی حالت میں جنت میں بسانے کے لیے صرف اُنھیں لوگوں کا انتخاب کیا جائے گا جنھوں نے موت سے پہلے کی دنیا میں اس امن پسندانہ مزاج کا ثبوت دیا ہو۔ موجودہ دنیا ایک انتخاب گاہ (selection ground) ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسے لوگوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے جو کامل طور پر امن پسند ہوں اور جنت کے پرامن سماج میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ یہ وہ سب سے بڑی حقیقت ہے جو اہل کشمیر کو بھی سوچنے کی دعوت دیتی ہے، اور اسی طرح دوسرے مقام کے لوگوں کو بھی۔
ناشکری کا کلچر
تشدد (violence) کیا ہے، تشدد ناشکری کا کلچر ہے۔ شکایت سے تشدد پیدا ہوتا ہے اور تشدد آدمی کے اندر سے شکر کی نفسیات کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیتا ہے۔ ابلیس نے آغاز حیات میں چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انسانوں کو شکر کے راستے سے ہٹا دوں گا اور بیش تر انسانوں کو میں شکر نہ کرنے والا بنا دوں گا: ولا تجد أكثرهم شاكرين (17: 7)۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues