ناشکری کا کلچر
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
اس اعتبار سے دیکھیے تو تشدد کوئی سادہ بات نہیں۔ جس سماج میں تشدد کا کلچر ہو تو سمجھ لیجیے کہ وہاں کے لوگوں پر شیطان غالب آگیا ہے۔ شیطان نے اُن کو بہکا کر، پہلے شکایت اور پھر تشدد کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ تشدد ایک شیطانی کلچر ہے، اور تشدد جہنم کا دروازہ کھولنے والا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو ابلیس کو حکم دیا کہ وہ انسان کے آگے جھک جائے، مگر ابلیس، انسان کے آگے نہیں جھکا۔ ابلیس، جنات کا سردار تھا۔ ابلیس کو اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بہت سی چیزیں حاصل تھیں، مگر ایک چیز کے نہ ملنے پر وہ شکر کے راستے سے ہٹ گیا۔ یہی ناشکری ہے، اور ناشکری بلاشبہ ابلیس کی پیروی ہے۔
جب بھی کوئی فرد یا گروہ شکر کے راستے سے ہٹتا ہے اور نفرت اور تشدد کے راستے پر چلتا ہے تو اس کا سبب ہمیشہ کوئی ایک شکایت ہوتی ہے۔ اُس وقت بھی عملاً ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو 99 چیزیں ملی ہوئی ہوتی ہے، لیکن ایک چیز کے نہ ملنے کو وہ اتنا بڑا مسئلہ بنا لیتا ہے کہ وہی ایک چیز اس کے دماغ پر چھا جاتی ہے۔ اسباب شکر کے ہجوم میں وہ شکایت کا جنگل بن جاتا ہے۔ یہ طریقہ بلاشبہ شیطان کا طریقہ ہے، خواہ اس کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔
کشمیر یا اس طرح کے دوسرے مقامات پر جہاں مسلمان سیاسی شکایت کو لے کر بے فائدہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ سب اس کی مثالیں ہیں۔ ان مقامات پر ایسا نہیں ہے کہ مسلمان کلی محرومی کا شکار ہوگئے ہوں۔ یہ لوگ کسی جزئی شکایت پر غیر ضروری طور پر حساس ہوگئے ہیں۔ یہی غیر ضروری حساسیت ان کا اصل مسئلہ ہے۔ اگر وہ اس غیر ضروری حساسیت کو ختم کردیں تو اچانک وہ محسوس کریں گے کہ ان کو اتنا زیادہ ملا ہوا ہے کہ انھیں شکر کی تحریک چلانا چاہیے، نہ کہ ناشکری اور شکایت کی تحریک۔ تشدد کی تزئین تشدد (violence) کامل معنوں میں ایک تخریبی عمل ہے۔ پوری تاریخ بتاتی ہے کہ تشدد کے ذریعے کبھی بھی کسی فرد یا گروہ کو کوئی مثبت کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ جب بھی کسی فرد یا گروہ نے تشدد کا طریقہ اختیار کیا تو اس کے حصے میں صرف تباہی آئی، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی تعمیر۔ اس کے باوجود کیوں
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues