Al-Risala · March 2012 · page

فطرت کے خلاف

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

صورت میں برآمد ہوا۔ سیکڑوں سال کی روایات ٹوٹ گئیں ، لوگوں کے درمیان نفرتیں پیدا ہوئیں جو آخر کار تشدد تک جا پہنچیں۔ باہمی خیر خواہی کا ماحول ختم ہو گیا، وغیرہ۔

مبنی بر نظام تحریک غیر فطری تحریک ہے۔ صحیح تحریک وہ ہے جو اصلاح ذہن کی بنیاد پر چلائی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ نظام کا الگ سے کوئی وجود نہیں۔ انسان کے مجموعے ہی کا دوسرا نام نظام ہے۔ انسان اگر فرداً فرداً اصلاح یافتہ ہو جائیں تو اُن کے مجموعے سے جو نظام بنے گا، وہ فطری طور پر ایک اصلاحی نظام ہوگا۔ قانون فطرت کے مطابق، اصلاح کی تحریک فرد سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ نظام سے۔ جو تحریک نظام کی اصلاح کے نام پر شروع کی جائے، وہ اپنے آغاز ہی سے دو طبقوں کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرے گی، اور جہاں نفرت اور ٹکراؤ پایا جائے وہاں عملاً اصلاح کا امکان ہی ختم ہو جاتا ہے۔ صالح تحریک، غیر صالح تحریک ہر آدمی کے اندر ایک شیطان چھپا ہوا ہے ۔ یہ شیطان ، نفرت کا بم (hate bomb) ہے۔ ہر آدمی امکانی طور پر نفرت کا بم اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ نفرت کا یہ بم عام حالات میں، انسان کے اندر سویا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن اگر کسی طرح اُس کو جگا دیا جائے، تو اچانک وہ بے پناہ ہو کر بھڑک اٹھتا ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس معاملے میں کسی عورت یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔ اس صورتِ حال کا مطلب دوسرے لفظوں میں ، یہ ہے کہ ہر انسان ایک انتہائی آتش گیر (highly inflammable) مادہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی سماج میں اگر دس ہزار آدمی ہیں ، تو وہ گویا کہ دس ہزار چلتے پھرتے آتش گیر مادّے کا مجموعہ ہیں۔ یہ دراصل ذاتی مفاد (personal interest) ہے جو لوگوں کو مزا اجاً تشدد ہونے کے باوجود، مجبورانہ طور پر امن پسند بنائے رہتا ہے۔ ایسی صورت میں قیادت (leadership) کا کام ایک بے حد مشکل کام ہے۔ جس قائد کے پاس صرف شکایت اور احتجاج کا نعرہ ہو، اْس کو ہرگز میدان میں نہیں آنا چاہیے۔ کیوں کہ اس کا منفی نعرہ لوگوں کو بھڑکائے گا اور آخر کار، سماج کا وہ حال ہو جائے گا، جیسے ایک مقام پر بہت سے آتش گیر مادے ہوں اور وہ اچانک بھڑک اُٹھیں۔ قائد پر لازم ہے کہ اگر اس کے پاس محبت کا نعرہ ہے، تب تو وہ اپنی تحریک لے کر سماج میں آئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page