Al-Risala · March 2012 · page

فطرت کے خلاف

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

نہ کہ اسلام کی پیروی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تخلیق انسانی سے پہلے جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا تو اُس وقت وہاں آدم کے سوا دو مخلوق اور موجود تھی ــــ فرشتے اور جنات۔ اللہ نے حکم دیا کہ تم لوگ آدم کے آگے جھک جاؤ۔ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی، لیکن ابلیس (جنات کا سردار) نے اللہ کے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا، وہ اللہ کا باغی بن گیا۔

یہ انسانی تاریخ میں، اتھارٹی (authority) کے خلاف بغاوت کا پہلا واقعہ تھا۔ یہ سیاسی بغاوت یا پالکس آف اپوزیشن (politics of opposition) بلا شبہ شیطان کی سنت ہے۔ اتھارٹی سے ٹکرائے بغیر اپنا کام کرنا، یہ ملائکہ کا طریقہ ہے۔ اور اتھارٹی سے ٹکرا کر کے پالکس آف اپوزیشن کا ہنگامہ کھڑا کرنا، شیطان کا طریقہ۔ عجیب بات ہے کہ شیطان کی یہ منفی سیاست پوری تاریخ میں مسلسل طور پر جاری رہی ہے، اہل ایمان کے درمیان بھی اور غیر اہل ایمان کے درمیان بھی۔ اسی منفی سیاست کا یہ نتیجہ ہے کہ انسانی تاریخ، تعمیر کی تاریخ بننے کے بجائے، تخریب کی تاریخ بن گئی۔

فطرت کے خلاف

انسانی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے جو سرگرمیاں کی جاتی ہیں، ان کو تحریک (movement) کہا جاتا ہے۔ اس دنیا میں تحریک کی دو صورتیں ہیں ــــ مبنی بر ذہن تحریک، مبنی بر نظام تحریک (mind-based activism, system-based activism)

تحریک کا وہ انداز جو فطرت کے مطابق ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے ــــ مبنی بر ذہن تحریک۔ اس کے برعکس، مبنی بر نظام تحریک، فطرت کے یا خالق کے تخلیقی منصوبے کے خلاف ہے۔ اس فرق کی بنا پر ہمیشہ ایسا ہوگا کہ مبنی بر نظام تحریک ہمیشہ ناکام ہوگی اور مبنی بر ذہن تحریک ہمیشہ کامیاب۔ آج کی دنیا میں جو نفرت اور تشدد پایا جاتا ہے، وہ صرف اس قانون فطرت سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ موجودہ زمانے میں، کشمیر اور دوسرے مقامات پر جو تحریکیں چلائی گئیں، اُن میں سے کوئی تحریک ایسی نہیں ہے جو ذہن (mind) کو نشانہ بنا کر چلائی گئی ہو۔ وہ سب کی سب نظام (system) کو نشانہ بنا کر چلائی گئیں۔ اس لیے اُن کا یہ منفی انجام ہوا کہ اس طرح کی ہر تحریک کا نتیجہ صرف تباہی کی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page