کشمیریت کی طرف واپسی
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲، صفحہ ۲۶
بعد سیاسی اقتدار بھی اس سے چھن جائے گا۔ جب ایسا ہو تو قوم کو چاہیے کہ وہ دوبارہ اپنے اندر ضروری صلاحیت پیدا کرے، نہ کہ وہ فریق ثانی کے خلاف بے فائدہ جنگ چھیڑ دے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ما بقوم میں تغیر ہمیشہ مابأنفس میں تغیر کا نتیجہ ہوتا ہے (13:11)۔ ما بقوم سے مراد اجتماعی حالت ہے، اور ما بأنفس سے مراد انفرادی حالت۔ جب بھی کسی قوم کی اجتماعی سطح پر زوال آئے تو اس کو اپنے افراد کی سطح پر اس کا سبب ڈھونڈنا چاہیے۔ کیوں کہ قوم کے افراد کی حالت کو بدلنے کے بعد ہی قوم کی اجتماعی حالت بدل سکتی ہے، اس کے بغیر ہرگز نہیں۔ عمل کا آغاز افراد کی سطح سے ہوتا ہے، نہ کہ اجتماع کی سطح سے۔ اجتماع کی سطح پر جو آغاز ہوتا ہے، وہ صرف لیڈری ہے، نہ کہ کوئی حقیقی عمل۔
کشمیریت کی طرف واپسی
کشمیریت کیا ہے، کشمیریت دراصل صوفیت کا دوسرا نام ہے۔ کشمیری کلچر کا مطلب ہے، صوفی کلچر۔ کشمیر شاید پوری دنیا میں واحد مقام ہے جہاں اسلام صرف صوفیوں کے ذریعے آیا اور صوفیوں کے ذریعے پھیلا۔ اس لیے کشمیر میں کشمیریت کو قائم کرنا، دراصل صوفیت کو قائم کرنا ہے۔ صوفیت اور روحانیت دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ صوفیت تمام تر امن اور محبت سے عبارت ہے۔ صوفیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ امن اور محبت کے کلچر کا دوسرا نام ہے۔
صوفی کلچر کیا ہے، خود صوفیوں کی زبان میں، وہ صلحِ کل (peace with all) کا نام ہے۔ یہی صوفی کلچر، مسلم اور مسلم کے درمیان بھی مطلوب ہے، اور مسلم اور غیر مسلم کے درمیان بھی۔ کشمیر کے لوگ پچھلے سیکڑوں سال سے اسی صوفی کلچر پر قائم تھے۔ وہاں کا پورا ماحول امن اور محبت اور سماجی ہم آہنگی کے اصول پر مبنی تھا۔ کشمیر کے لوگ نفرت اور تشدد سے بالکل نا آشنا تھے۔ کچھ بیرونی عناصر نے کشمیر کے لوگوں کو بہکا کر اُن کو اس کشمیری کلچر سے ہٹا دیا۔ نفرت اور تشدد کے کلچر نے کشمیر یوں کو کوئی مثبت چیز نہ دی، البتہ اس کا نقصان یہ ہوا کہ کشمیر یوں سے اُن کا سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ چھن گیا، اور وہ یہی صوفیانہ کلچر تھا جو ہمیشہ سے کشمیر کی علامت بنا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues