کشمیریت کی طرف واپسی
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
ہوا تھا، یعنی امن اور محبت کا کلچر۔
یہ کشمیر کی خوش قسمتی تھی کہ پچھلے چند سو سالوں میں یہاں باہر سے جو مسلم صوفی آئے، یا مقامی طور پر جو صوفی پیدا ہوئے، وہ سب کے سب امن اور محبت کا پیغام دینے والے تھے۔ اس کے نتیجے میں کشمیر میں زبردست انقلاب آیا۔ کشمیر میں اسلام کو غیر معمولی طور پر فروغ حاصل ہوا۔ مثال کے طور پر شیخ نور الدین نورانی (وفات: 1439ء) کشمیر کے صوفیوں میں سے ایک صوفی تھے۔ کشمیر کے لوگوں میں عام طور پر وہ ”عَلَم دار کشمیر“ کے نام سے مشہور تھے۔ ہندو لوگ انھیں پیار سے ’’نند رِشی‘‘ کہتے تھے۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مقبول تھے۔ شیخ نور الدین نورانی سچی کشمیر یت کی علامت تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تو دانش مند ہے تو ہندو اور مسلمان کو الگ الگ انسان نہ سمجھ، یہی خدا سے ملنے کا راستہ ہے۔ وہ شاعر بھی تھے۔ چناں چہ ان کا کلام کشمیر کے ایک شاعر نے رِشی نامہ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیخ نور الدین نورانی کے نزدیک انسان کی ایک ہی پہچان تھی، وہ یہ کہ انسان انسان سے محبت کرے۔ ان کے نزدیک انسان سے محبت ہی خدا کی پہچان کا راستہ ہے۔
شیخ نور الدین نورانی کے قیمتی اقوال میں سے ایک قول یہ ہے کہ میں نے تلوار توڑ دی اور اُس سے درانتی بنا لی۔ یہ قول شیخ نورانی کے فکر کا خلاصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے لوہا بنایا جس میں خصوصی طاقت ہے، مگر لوہا اس لیے نہیں ہے کہ آپ اس کو تشدد کے لیے استعمال کریں، بلکہ آپ کو چاہیے کہ لوہے کو تعمیر انسانیت کے لیے استعمال کریں۔ آپ لوہے سے تلوار کے بجائے درانتی بنائیں جو زراعت کے کام آتی ہے۔ لیکن اکتوبر 1989 سے کشمیر میں ایسے لوگ ابھرے جو برعکس اصول پر یقین رکھتے تھے۔ انھوں نے برعکس طور پر یہ کیا کہ اپنی درانتی کو توڑ کر اُس سے تلوار بنائی۔ انھوں نے جہاد کے نام پر پوری ریاست میں نفرت اور تشدد پھیلا دیا۔
جہاں تک راقم الحروف کا تعلق ہے، میں پہلے دن سے نام نہاد کشمیری تحریک کو بے اصل سمجھتا رہا ہوں۔ میرا کہنا یہ رہا ہے کہ اس طرح کے واقعات تاریخ کے ذریعے ظہور میں آتے ہیں، نہ کہ موجودہ قسم کی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues