Al-Risala · March 2012 · page

تاریخ کے فیصلے کو بدلنا

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

کسی مسلم ادارے کا معائنہ کیجیے، مسلمانوں کا کوئی اخبار یا میگزین پڑھیے، ہر جگہ آپ کو یہی منفی سوچ دکھائی دے گی منفی سوچ ہمیشہ کسی اور کے خلاف ہوتی ہے، مگر یہ ایک سنگین حقیقت ہے کہ منفی سوچ کا نقصان خود منفی سوچ والوں کو ہوتا ہے، نہ کہ اُن لوگوں کو جن کے خلاف منفی انداز میں سوچا جا رہا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور اس قانون میں کبھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ منفی ذہنیت (negative mentality) کا مطلب ہے، گھیٹو ذہنیت (ghetto mentality)۔ اس طرزِ فکر کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ دوسروں سے کٹ جاتے ہیں۔ وہ علاحدگی پسندی کے خول میں جینے لگتے ہیں۔ اس طرح دوسروں کے ساتھ اُن کا انٹریکشن (interaction) ختم ہو جاتا ہے۔ اس گھیٹو آئیڈیا لوجی کا بھیانک نتیجہ پس ماندگی اور پچھڑے پن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ زندگی کا راز علاحدگی پسندی میں نہیں ہے، بلکہ انٹریکشن میں ہے۔ زندگی کا راز لوگوں سے قریب ہونے میں ہے، لوگوں سے دور ہونے میں نہیں۔ زندگی کا راز دوسروں کا خیر خواہ بننے میں ہے، دوسروں سے نفرت کرنے میں نہیں ہے۔ زندگی کا راز مثبت طرزِ فکر میں ہے، منفی طرزِ فکر صرف ہلاکت کا ذریعہ ہے، نہ کہ تعمیر و ترقی کا ذریعہ۔

تاریخ کے فیصلے کو بدلنا

کعبہ کو تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ میں بنایا تھا۔ اُس وقت کعبہ مستطیل (rectangle) صورت میں تھا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے قریشِ مکہ نے کعبہ کی نئی تعمیر کی۔ اُس وقت انھوں نے کعبہ کی لمبائی کو کم کرکے اس کو مربع (square) صورت میں تعمیر کیا۔ کعبہ اس مربع صورت میں آج تک موجود ہے۔

روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اہلیہ عائشہ سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ کعبہ کی عمارت کو دوبارہ میں ابراہیمی بنیاد پر بناؤں، مگر آپ اس سے باز رہے، کیوں کہ عملی اسباب کے تحت اب ایسا کرنا زیادہ بڑی برائی (greater evil) کا سبب بنتا ہے۔ (صحيح البخاري، رقم الحديث : 1583)

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page