Al-Risala · March 2012 · page

مشتے بعد از جنگ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

ناکام سیاست کو نئے نئے ناموں کے ساتھ بدستور جاری رکھیں۔ اب آخری وقت آگیا ہے جب کہ اہل کشمیر اپنے مستقبل کی تعمیر کے معاملے پر از سرِ نو غور کریں اور حقائق کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ اپنی قومی پالیسی کی از سرِ نو تشکیل کریں۔ پالیسی وہی ہے جو عملاً پائیدار (sustainable) ہو، جو پالیسی پائیدار نہ ہو، وہ پالیسی ہی نہیں۔ وہ صرف وقت اور توانائی کا ضیاع ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی نتیجہ خیز عمل۔ زمانے کے خلاف 1947 کے بعد کشمیر میں جو تحریک چلائی گئی، اس کا مقصد تھا کشمیر کو علیحدہ پاکٹ بنانا۔ یہ بلا شبہہ ایک خلافِ زمانہ روش (anachronism) ہے۔ موجودہ زمانہ بین الاقوامی تعلقات کا زمانہ ہے۔ ایسی حالت میں، علیحدہ پاکٹ بنانا ایک خلافِ زمانہ روش کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس معاملے میں ایک عبرت ناک مثال پاکستان کی ہے۔ پاکستان اسی علیحدگی کے تصور پر بنایا گیا۔ 1947 سے پہلے پاکستان کے مسلم لیڈر یہ کہتے تھے کہ علیحدہ پاکٹ بنانا ہمارے قومی وجود کے لیے ضروری ہے۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو یہ ہوا کہ پاکستان کے اکثر تعلیم یافتہ افراد مملکتِ خداداد‘ (پاکستان) کو چھوڑ کر امریکا اور یورپ کے ملکوں میں چلے گئے۔ پاکستان میں اُن کو اصرار تھا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں، لیکن دوسرے ملکوں میں جاکر انھوں نے وہاں کی قومیت اختیار کرلی۔ امریکا میں امریکی قومیت، فرانس میں فرانسیسی قومیت، برطانیہ میں برطانوی قومیت، جرمنی میں جرمن قومیت، وغیرہ۔ کشمیر میں جو لوگ کشمیر کو علیحدہ سیاسی پاکٹ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، انھیں پاکستان کے اس عبرت ناک انجام سے سبق لینا چاہیے۔ اُنھیں اس سے بچنا چاہیے کہ وہ غیر حقیقی نعروں پر اپنی تحریک اٹھائیں اور بعد کو حالات کے دباؤ کے تحت وہ خود اپنے نعروں کے خلاف عمل کرنے لگیں۔ گھسیٹرو ذہنیت کا نقصان آج کل کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ تقریباً تمام مسلمان منفی سوچ (negative thinking) میں جی رہے ہیں۔ مذہبی مسلمان اور سیکولر مسلمان دونوں یکساں طور پر اسی قسم کی منفی سوچ رکھتے ہیں، اُن کے مرد بھی اور ان کی عورتیں بھی۔ کسی مسلمان سے بات کیجیے، مسلمانوں کے کسی جلسے میں جائیے،

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page