Al-Risala · March 2012 · page

آئیڈیل اور پریکٹکل

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

مسلمان دو گروہ میں بٹ گئے تھے۔ ایک گروہ حضرت حسن کے ساتھ تھا، اور دوسرا گروہ حضرت معاویہ کے ساتھ۔ دونوں گروہوں میں اختلافات اتنے زیادہ بڑھے کہ دونوں گروہوں میں جنگ کی صورت پیدا ہو گئی۔ اُس وقت حضرت حسن کے ساتھ چالیس ہزار مسلح افراد تھے۔ اگر جنگ ہوتی تو دونوں طرف کے ہزاروں آدمی مارے جاتے۔ حضرت حسن نے اس ٹکراؤ کو پسند نہیں کیا۔ چناں چہ وہ یک طرفہ طور پر عہدے سے دست بردار ہو گئے اور خلافت کا عہدہ حضرت حسن نے معاویہ کے حوالے کر دیا۔ حضرت حسن کی یہ روش اُس وقت کے مسلمانوں کو پسند نہیں آئی۔ انھوں نے آپ کے خلاف سخت بیانات دئے۔ ایک مسلمان نے آپ کو خطاب کرتے ہوئے کہا: یا عار المسلمین (اے مسلمانوں کے لیے ننگ و عار)۔ حضرت حسن نے اس کے جواب میں کہا: العار خیر من النار (ننگ و عار آگ سے بہتر ہے) (البدایة والنھایة، جلد 8 ، صفحہ 19-18۔

حضرت حسن کی اس مصلحانہ روش کو عام مسلمانوں نے پسند نہیں کیا، کیوں کہ اُن کے نزدیک ، یہ ذلت اور پسپائی کی روش تھی۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر اس روش کی تصدیق فرمائی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت حسن جب چھوٹے تھے، تو آپ نے اُن کے بارے میں پیشین گوئی کے انداز میں فرمایا تھا: إن ابني هذا سيد، ولعل الله أن يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين (صحيح البخاري، رقم الحديث : (2704) یعنی یہ میرا بیٹا سردار ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہ کے درمیان صلح کرا دے۔ اس واقعے سے زندگی کی ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک روش جو عام مسلمانوں کی نظر میں ذلت اور پسپائی کی روش ہو، وہی روش پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں درست قیادت کی ایک اعلیٰ مثال کی حیثیت رکھتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں ذلت اور پسپائی کے الفاظ جاہلیت کے الفاظ ہیں۔ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات کو نتیجہ (result) کی روشنی میں دیکھا جائے ۔ اسلامی تعلیم کے مطابق ، نزاعی معاملات میں صرف وہ طریقہ صحیح طریقہ ہے جو ٹکراؤ اور تشدد سے بچانے والا ہو۔ اس کے برعکس ، جو طریقہ ٹکراؤ اور تشدد کی طرف لے جائے،

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page