Al-Risala · March 2012 · page

اتباع یہودیت

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

وہ بلا شبہ جاہلیت کا طریقہ ہے۔ اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ اس طرح کے معاملے میں ٹکراؤ سے اعراض والا طریقہ اختیار کریں، خواہ ظاہر ہیں لوگوں کو وہ ذلت اور پسپائی کا طریقہ دکھائی دیتا ہو۔ اس واقعے میں اُن تمام مسلمانوں کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے، جہاں کشمیر جیسے حالات پیش آرہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے مقامات ہیں جہاں کے مسلمان مذکورہ قسم کی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ ایسے تمام مسلمانوں کے لیے مذکورہ واقعہ ایک رہنما واقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مسلمان اگر قومی عزت اور قومی وقار کی اصطلاحوں میں سوچتے ہیں تو اُنھیں فوراً اپنی اس سوچ کو چھوڑ دینا چاہئے، اور پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں اُنھیں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ ہر حال میں امن اور مصالحت کا طریقہ اختیار کریں گے، نہ کہ ٹکراؤ اور تشدد کا طریقہ۔ حضرت حسن کے الفاظ میں، اس طرح کی صورتِ حال میں تشدد کا طریقہ اختیار کرنا، جہنم کا طریقہ ہے، اور امن کا طریقہ اختیار کرنا جنت کا طریقہ۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں، حضرت حسن بن علی مسلمانوں کے درمیان غیر مقبول ہو گئے ۔ اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ لو پروفائل (low-profile) میں بولتے تھے۔ عوام کا یہ عجیب مزاج ہے کہ وہ ایسے افراد کو اپنا قائد بنا لیتے ہیں جو ہائی پروفائل (high-profile) میں بولیں، اور جو شخص لو پروفائل میں بولے، وہ اُن کے درمیان صرف ایک غیر اہم شخص بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر عقل اور اسلام دونوں کا یہ فیصلہ ہے کہ خدا کی اس دنیا میں، ہائی پروفائل میں بولنے والے لوگوں کا انجام تباہی ہو، اور لو پروفائل میں بولنے والوں کا انجام کامیابی ۔ اسلام کی صراطِ مستقیم پر صرف وہ لوگ ہیں جو لو پروفائل میں بولنے والے رہنما کا ساتھ دیں۔ اللہ کی نصرتیں صرف ایسے لوگوں کے لیے ہی مقدر ہیں۔

اتباع یہودیت

صهيونيت (Zionism) موجودہ زمانے کے یہودیوں کی سب سے بڑی تحریک ہے۔ یہ تحریک 1897 میں شروع ہوئی۔ اس کا مقصد تھا فلسطین میں دوبارہ یہودی ریاست قائم کرنا: Zionism: Political and cultural movement seeking to re-establish Jewish national state in Palestine.

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page