The official language of CPS is English.
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲
ہوتی ہے۔ میں نے کہا امریکہ میں ڈیولپمنٹ کاجوکام ہوا ہے، وہ گویا اسی قسم کا ایک کام ہے۔ میں جب امریکہ کے خوب صورت شہروں کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ: America is an introductory version of paradise. 17 جون 2011 کو جمعہ کا دن تھا۔ ہم لوگوں نے فلیڈیلفیا کی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ امام صاحب نے انگریزی میں خطبہ دیا۔ اس خطبے میں انھوں نے غیرمسلموں کے لیے بددعا کی اور عربی زبان میں اس طرح کے الفاظ کہے: اللهم أهلك الكفرة واليهود والمشركين ۔ میں نے سوچا کہ بات یہ ہے کہ مفروضہ دشمنوں کے لیے بددعا میں مسٹر اور مولوی کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ مشرق سے مغرب تک تقریباً ہر مسلمان اس میں مشغول ہے۔ اگر وہ منہ سے بددعا نہیں کرتا تو وہ اپنے دل میں منفی خیال لئے ہوئے ہے۔
ایک مجلس میں کچھ لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان مغربی قوموں کے لیے نیگیٹیو (negative) ہو گئے ہیں، اس لیے وہ ان قوموں کو اپنا مدعونہ بنا سکے۔ مغرب میں دعوت الی اللہ کے غیرمعمولی امکانات موجود ہیں، مگر مذکورہ منفی نفسیات کی بنا پر یہ امکانات واقعہ نہ بن سکے۔ کچھ لوگ بطور خود قرآن کو پڑھ کر اسلام قبول کر لیتے ہیں، لیکن خود مسلمانوں کے اندر حقیقی معنوں میں غیرمسلموں کے لیے کوئی دعوتی عمل موجود نہیں۔ امریکہ میں مسلمانوں کی فلاح کے نام پر بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں، لیکن غیرمسلموں میں دعوت کے لیے حقیقی معنوں میں کوئی تحریک موجود نہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ قرآن میں بہت زیادہ تکرار (repetition) ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تکرار نہیں ہے، بلکہ وہ ایک پہلو کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت ہے۔ مثلاً قرآن میں آدم اور ابلیس کا قصہ کئی بار بیان ہوا ہے۔ لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بار اس کا ذکر کسی نئے پہلو سے کیا گیا ہے۔
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ انسان کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس کو مائنڈ دیا گیا ہے۔ یہ مائنڈ حکمت (wisdom) کو دریافت کرنے کا لامتناہی خزانہ ہے۔ حیوانات
‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues