شاہ ہمدان مشن
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
کوششوں کا نتیجہ ہے۔ کشمیر کے لوگ اُنھیں کے مشن پر قائم تھے۔ 1947 میں برصغیر ہند میں جو انقلاب آیا، اُس کے ردِّعمل کے طور پر کشمیر میں سیاسی تحریک اُٹھی۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ یہ سیاسی تحریک اپنے نتیجے کے اعتبار سے، کشمیریوں کے لیے صرف نقصان کا باعث ثابت ہوئی۔ تاہم اِس نقصان کا ایک مثبت پہلو ہے، وہ یہ کہ سیاسی ہنگاموں کا منفی انجام کشمیریوں کے لیے ایک شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ثابت ہوا۔ اب کشمیری مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنے ماضی کی طرف لوٹیں ۔ وہ دوبارہ شاہِ ہمدان کی طرح پُر امن دعوت کو اپنا نشانہ بنائیں۔ اِس نئے ذہن کو شاہِ ہمدان کے مشن کا احیاء (Revival of Shah Hamadan’s Mission) کہا جاسکتا ہے۔
میر سید علی ہمدانی ایران میں پیدا ہوئے، وہ ایرانی بادشاہ تیمور لنگ (وفات: 1405ء) کے ہم عصر تھے۔ شاہ تیمور اُن سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور اُن کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف اپوزیشن کی تحریک چلائیں، مگر امیر کبیر نے اِس قسم کے سیاسی تصادم سے مکمل طور پر پرہیز کیا۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کو لے کر اپنے وطن ہمدان سے نکلے۔ اِس طرح، افغانستان ہوتے ہوئے یہ قافلہ 1379ء میں کشمیر پہنچا۔ امیر کبیر کا پروگرام نہ شاہ تیمور کے خلاف ردِّعمل کے طور پر بنا اور نہ کشمیری مسلمانوں کے وقتی حالات سے متاثر ہو کر۔ اُس وقت کشمیر میں ایک مسلم راجہ سلطان قطب الدین کی حکومت تھی۔ اِس کے اندر بہت سی اعتقادی اور عملی خرابیاں موجود تھیں ۔ امیر کبیر نے سلطان کو ناصحانہ انداز کے خطوط بھیج کر اِس کو اصلاحِ حال کی طرف متوجہ کیا، تاہم اُنھوں نے اِس کو اقتدار سے ہٹانے اور اِس کی جگہ صالح حکمراں کو لانے کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ امیر کبیر نے ان تمام عوامل سے اوپر اٹھ کر سوچا اور خوداپنے مثبت فکر کے تحت اپنا پروگرام بنایا۔ یہ تمام تر ایک خاموش عملی پروگرام تھا۔ امیر کبیر اور ان کے ساتھی ریاست کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور پر امن طور پر یہاں کے باشندوں میں اسلام کا پیغام پہنچانے لگے۔ اُنھوں نے کشمیریوں کی زبان سیکھی، یہاں کے حالات سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کیا، اجنبی دیس میں اپنے لیے جگہ بنانے کی مصیبتیں اٹھائیں۔ اِس طرح صبر و برداشت کی زندگی گزارتے ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues