شاہ ہمدان مشن
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲
بے خبر نہ رہے۔ یہ وہی کام ہے جس کو دوسرے الفاظ میں، دعوت الی اللہ کہا جاتا ہے۔ دعوت کا عمل جب اپنی انتہائی صورت میں انجام پائے، تو اسی کا دوسرا نام شہادت یا گواہی ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام ایمان سے الگ کوئی کام نہیں۔ جب کسی شخص کو حقیقی طور پر ایمان حاصل ہوتا ہے، تو فطری طور پر وہ اس کے لیے بے تاب ہو جاتا ہے کہ جس سچائی کو اُس نے جانا ہے، اُس سچائی کو دوسرے لوگ بھی جان لیں۔ زندگی کا جو مقصد اُس نے دریافت کیا ہے، وہ مقصد دوسرے لوگوں کے لیے بھی ان کی دریافت بن جائے۔ دنیا اور آخرت کی سعادت کا جو راز اُس پر کھلا ہے، اس سے دنیا کے دوسرے لوگ محروم نہ رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادت اگر ذاتی دریافت کا معاملہ ہے، تو انطباقی شہادت دوسروں کو اس دریافت میں شریک کرنے کا معاملہ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں اپنے اصحاب کو گواہ بناتے ہوئے اُن کے سامنے ایک تاریخی خطاب کیا تھا۔ یہ خطاب اصحاب رسول کے واسطے سے پوری امت محمدی کے لیے ہے۔ اس خطاب میں آپ نے فرمایا تھا: إن الله بعثني رحمةً للناس كافةً، فأدّوا عنّي (معرفة الصحابة لأبي نعيم، رقم الحديث : 3438) یعنی اللہ نے مجھ کو دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم میری طرف سے تمام انسانوں کو میرا پیغام رحمت پہنچادو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز تاریخ میں گونجتی ہوئی تمام مسلمانوں تک پہنچ رہی ہے۔ اسی طرح وہ اہلِ کشمیر سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ اے کشمیر کے مسلمانو، تم میرے مشن کو پورا کرو اور تمام انسانوں تک میرا پیغام پہنچانے میں میرے مددگار بن جاؤ۔ کیا کشمیر کے مسلمان پیغمبر اسلام کی اس آواز پر لبیک کہیں گے۔
شاہ ہمدان مشن
میر سید شہاب الدین علی ہمدانی (وفات : 1384ء) کو ریاست جموں وکشمیر میں "معمار کشمیر" کا درجہ حاصل ہے۔ کشمیری مسلمان عام طور پر اُن کو "امیر کبیر" کہتے ہیں۔ امیر کبیر 1379ء میں ایران سے کشمیر آئے۔ انھوں نے کشمیر میں اسلام کی تاریخ بنائی۔ موجودہ کشمیر زیادہ تر، اُنھیں کی دعوتی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues