Al-Risala · March 2012 · page

شاہ ہمدان مشن

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۲

کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کشمیریوں کو دنیا کی جنت دے دی۔ دوسری طرف، اللہ تعالیٰ نے کشمیر میں دنیا بھر کے مدعو بھیج دئے، تاکہ کشمیر کے مسلمان دعوتی کام کر کے آخرت کی جنت بھی حاصل کریں۔ موجودہ زمانہ پرنٹنگ پریس کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں دعوتی کام انتہائی حد تک آسان ہو چکا ہے۔ قرآن کا ترجمہ، اور اسلام پر چھوٹی اور بڑی کتابیں چھپی ہوئی موجود ہیں۔ آپ ان کتابوں کو اپنے ساتھ رکھیں اور ہر موقع پر اُنھیں لوگوں کو پڑھنے کے لیے دیجیے۔ اسی طرح دوسرے تمام مواقع کو اسلام کی پُر امن اشاعت کے لیے استعمال کیجیے، خاص طور پر قرآن کا ترجمہ لوگوں کو دیجیے اور اللہ کے یہاں دعوت کا انعام حاصل کیجیے شاہ ہمدان نے دعوت کے ذریعے کشمیر میں کامیابی حاصل کی تھی، آپ دوبارہ کشمیر میں دعوت کے ذریعے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اہل کشمیر میدان حشر میں جموں و کشمیر کے ایک سفر میں میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ ماہ نامہ الرسالہ (جولائی، 1978) میں اس طرح چھپا ہے: ”مرزا محمد اعظم (پیدائش 1940) راجوری میں فارسٹر (forester) ہیں۔ وہ باہر سے جب کبھی گھر آتے تو اپنے بچوں کے لیے مٹھائی وغیرہ لاتے ۔ ستمبر 1975 کا واقعہ ہے۔ ایک دن وہ گھر میں داخل ہوئے تو کسی وجہ سے وہ اپنے بچوں کے لیے کچھ نہ لا سکے۔ حسب معمول بچے ان کے گرد جمع ہو گئے۔ ان کے 6 سالہ بچے ارشد محمود طارق نے اپنی پہاڑی زبان میں کہا۔ اگر تُساں اساں وسطے کجھ نی آندہ، پھرت س گٹھانے وسٹے آئے (اگر آپ ہمارے لیے کچھ نہیں لائے تو پھر آپ کس لیے یہاں آئے)۔ بچے کا یہ جملہ مرزا محمد اعظم کو تیر کی طرح لگا۔ انھوں نے سوچا کہ بہت جلد میں اسی طرح خدا کے یہاں جانے والا ہوں۔ اگر خدا یہ کہہ دے کہ میرے لیے تم کچھ نہیں لائے تو پھر تم یہاں کس لئے آئے ہو، اُس وقت میرے پاس کیا جواب ہوگا“۔ (صفحہ 22)

اس واقعے میں اہل کشمیر کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ کشمیر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ باہر سے آتے ہیں۔ مغربی سیاح، ہندو یاتری اور انڈین آرمی، وغیرہ۔ ان لوگوں کی مجموعی تعداد سالانہ تقریباً 30 لاکھ ہوتی ہے۔ یہ لوگ گویا کہ خدا کے بھیجے ہوئے مدعو ہیں۔ وہ اہل کشمیر کے پاس

‹ Previous page Next page › Contents of March 2012 All issues

Printed page