عبادت اور استعانت
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۲
عبادت اور استعانت
سورہ الفاتحہ، قرآن کی پہلی سورہ ہے۔ اس میں انسان کی زبان سے اللہ رب العالمین کے لئے یہ الفاظ آئے ہیں : إياك نعبد، وإياك نستعين (1:5) خدایا، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔
دین کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ عبادت، اور استعانت۔ انسان جب اللہ کی عظمت کو دریافت کرتا ہے تو اس کا نتیجہ جس شکل میں ظاہر ہوتا ہے، اس کا نام عبادت الہی ہے۔ اسی طرح انسان جب اپنے عجز کو دریافت کرتا ہے تو اس کے نتیجہ کے طور پر جو چیز ظاہر ہوتی ہے، اس کا نام استعانت باللہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ دین کا آغاز معرفت (realization) سے ہوتا ہے۔ انسان جب آفاق اور انفس پر غور کرتا ہے تو اُس کو ایک عظیم خالق کی دریافت ہوتی ہے۔ خالق کی عظمت کا احساس اُس کے پورے وجود پر چھا جاتا ہے۔ وہ بے اختیار چاہنے لگتا ہے کہ وہ اپنے خالق کے آگے اپنے پورے وجود کے ساتھ خود کو سرینڈر (surrender) کر دے، وہ اپنے پورے وجود کو اللہ کے آگے ڈال دے۔ یہ احساس، معرفت کا ایک فطری نتیجہ ہے اور اسی فطری نتیجے کا نام عبادت ہے۔ عبادت اپنے ظاہر کے اعتبار سے، ایک فارم ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ مومن کے اندر پیدا ہونے والے داخلی طوفان کا ایک خارجی ظہور ہے۔ عبادت ایک عارف انسان کی طرف سے اپنے رب کا قولی اور عملی اعتراف ہے۔ یہی معاملہ استعانت کا بھی ہے۔ ایک انسان جب اللہ کی عظمت کامل کو دریافت کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ اپنے عجز کامل کو بھی دریافت کر لیتا ہے۔ اس کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اللہ دینے والا ہے، اور وہ صرف پانے والا ۔ اللہ منعم ہے اور وہ محتاج انعام۔ یہ احساس عجز بار بار ذکر اور دعا کی صورت میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ اسی کا نام استعانت باللہ ہے ــ معرفت سے انسان کے اندر اعتراف (acknowledgement) کی اسپرٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس اعتراف کے اظہار کی ایک صورت وہ ہے جو اللہ کی نسبت سے ظاہر ہوتی ہے، اس کا نام عبادت ہے۔ اس اعتراف کی دوسری صورت وہ ہے جو خود انسان کی نسبت سے ظاہر ہوتی ہے، اسی کو استعانت باللہ کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues